خارجی اثرات سے متاثر ہوتے رہتے ہیں، بڑے بڑے مصلحین و مخلصین کو بھی اپنے اپنے درو میں اس کی رعایت کرنی پڑی ہے، دوسری صدی ہجری اور اس کے بعد کا زمانہ یونانی فلسفہ اور اس دور کی عقلیت پرستی سے متاثر ہوا، اور آج کا دینی ذہن اور تعلیم یافتہ نوجوان، مغرب کے سیاسی فلسفوں، اجتماعی و اقتصادی نظاموں اور زندگی و معاشرہ کی تنظیم جدید کے طریقوں سے متاثر ہو رہا ہے، وہ منفرد کتاب جس کی تازگی میں کبھی فرق نہیں آتا، اور گردش زمانہ اس پر اثر انداز نہیں ہوتی، وہ صرف خدا تعالٰی کی لازوال و معجز کتاب قرآن ہے، پھر رسول اکرم صلے اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ثابت شدہ صحیح احادیث کا بے بہا ذخیرہ، ان کے علاوہ ہر کتاب قانون تغیر میں جکڑی ہوئی اور اصلاح و ترمیمم، حذف و اضافہ اور انتخاب و تلخیص کی محتاج ہے۔
راقم کے بعض مخلص دوست ایک زمانہ سے مشورہ دے رہے تھے، بلکہ اصرار کر رہے تھے کہ وہ اس موضوع پر ایک کتاب ترتیب دے، جس سے موجودہ نسل کے لوگ فائدہ اٹھائیں، اسے زندگی کا دستور العمل اور رہنما بنائیں، جس طرح مختلف دوروں میں اس موضوع پر لکھی جانے والی کتابوں سے فائدہ اٹھایا گیا، میں جب اس موضوع پر للکھنے والے قدیم علماء کی زریں فہرست پر نظر ڈالتا اور ان کی جلالت شان، اخلاص اور علمی مقام کا خیال کرتا، تو اپنی فرومائیگی اور بے بضاعتی اس موضوع پر قلم اٹھانے سے مانع و عنان گیر ہوتی، پھر ضروری تصنیفی پروگرام، علمی مشغولتیں اور طویل سفر اس موضوع پر سنجیدگی سے غور کرنے کا بھی موقعہ نہیں دیتے تھے۔ لیکن بالآخر ذاتی مطالعہ، زندگی کے تجربات اور جدید اسلامی لٹریچر میں اس خلا کی موجودگی کے