اور مقبول و مشہور کتاب "بہشتی زیور" ہے، جس نے دین کی عمومی تعلیم و تربیت، اصلاح حال اور اصلاح رسوم کے میدان میں انقلابی کردار ادا کیا ہے، کتاب اصلاً مسلمان بچیوں اور خواتین کے لیے لکھی گئی تھی، لیکن اس سے طلبا و علماء بھی استفادہ کرتے ہیں، اور وہ گھروں میں ایک متوسط درجہ کے مفتی اور ایک اچھے قسم کے دینی اتالیق اور واعظ کا کام دیتی ہے۔ اردو میں کم کتابیں ہوں گی، جس کے اتنے ایڈیشن شائع ہوئے ہوں گے، اور اس تعداد میں چھپی ہو گی، جس تعداد میں یہ کتاب چھپی۔
دور حاضر میں اس موضوع کی اہمیت اور موجودہ نسل کو اس کی ضرورت اس لئے اور بڑھ گئی ہے کہ یہ دور اختصار پسند واقع ہوا ہے، وقت کی قدر و قیمت اور اس کی برق رفتاری کا احساس، ذکاوت حس کی حد تک پہنچ گیا ہے، ہر پیچیدہ اور طویل، محنت طلب اور دقیق کتاب کے مطالعہ سے گریز اس دور کا عام مزاج بن گیا ہے، اسی کے ساتھ موجودہ نسل کسی حد تک ضعیف القویٰ اور قاصر الہمت بھی نظر آتی ہے، تمدن کی پیچیدگیوں اور زندگی کے لامتناہی مطالبات نے مطالعہ اور استفادہ کے خواہش مندوں کو اور بھی اختصار و اجمال پسند بنا دیا ہے۔ (۱)
اس لئے عر صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ ایک نئی کتاب تیار کی جائے، جو گذشتہ کتابوں کی قائم مقامی کا کام انجام دے، کیونکہ ہر دور کی (باوجود وحدت زبان کے جو نسلوں اور صدیوں تک قائم رہتی ہے) ایک خاص زبان ہوتی ہے، جس کے بغیر ابنائے زمانہ کو سمجھنا مشکل ہوتا ہے، پھر ہر دور کی الگ نفسیات، نئی بیماریاں اور کمزوریاں، اور ذہن و طبیعت کے چور دروازے ہوتے ہیں، اسلامی تصورات
------------------------------
۱۔ اسی بنا پر بعض لوگ اس عہد کو (SANDWICH AGE) کہنے لگے ہیں۔