کو بھی اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے، جن کا نہ وہ شرعاََ مکلّف ہے، نا قانوناََ پابند، محبت کا آئین سب سے نرالا ہے، مُحبِ صادق میں اپنے محبوب کے عادات و خصائل، اس کے محبوب و مرغوب چیزوں، اور اس کے مقابلہ میں اس کی ناپسندیدہ چیزوں، اطوار و عادات کے تحقیق کرنے کی خواہش اور فکر ہوتی ہے، اور وہ اس کی نشست و برخاست، چال ڈھال، لباس و پوشاک، اور ان چیزوں سے بھی واقف ہونا چاہتا ہے، جو ضابطہ و قانون میں نہیں آتیں۔
یہی وہ محرک تھا، جس کی بناء پر علماء قدیم نے زمانہ قدیم میں بھی شمائل نبوی صہ کے موضوع پر وقیع و عظیم کتابیں لکھیں، اور آج بھی اس کا سلسلہ جاری ہے، ان کتابوں میں سب سے زیادہ شہرت و قبولیت امام ترمذی کی کتاب شمائل کو حاصل ہوئی، ۱؎ ذیل میں اس کتاب سے مختصراََ شمائل نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیش کئے جا رہے ہیں:-
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب چلتے تو ایسا معلوم ہوتا کہ گویا نشیب میں اتر رہے ہیں، جس کسی کی طرف توجہ فرماتے تو پورے بدن سے پھر کر توجہ فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہ نظر نیچی رہتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہ بہ نسبت آسمان کے زمین کی طرف زیادہ رہتی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت شریفہ عموماََ گوشہ چشم سے دیکھنے کی تھی، چلنے میں آپ صحابہ کو اپنے آگے کر دیتے تھے اور آپ پیچھے رہ جاتے تھے، جس سے ملتے سلام کرنے میں خود ابتدا فرماتے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال نصف کانوں تک تھے، اور ان پٹّوں سے جو کان کی لو تک ہوا کرتے ہیں، زیادہ تھے، اور اس نے کم تھے، جو مونڈھوں تک ہوتے ہیں، یعنی نہ زیادہ لانبے تھے
------------------------------
۱؎ مشہور مورخ و سیرت نگار و مفسر حافظ ابن کثیر کی بھی اس موضوع پر مستقل تصنیف "شمائل الرسول صہ" کے نام سے ہے۔