اور باطنیت سے متاثر صوفیوں، اہل تشیع اور غالی بدعتیوں کے اثر سے مسلم معاشرہ میں پیدا ہوئیں اور سبزہ خودرو کی طرح پوری زندگی پر چھا گئیں، اسی طرح غمی، خوشی کے موقعہ پر پائی جانے والی وہ جاہلی عادات و رسوم جو غیر مسلموں کے اختلاط کے اثر سے مسلمانوں کے گھروں میں داخل ہو گئی تھیں، اور اسلامی معاشرہ کا حلیہ بگاڑ رہی تھیں، اور کتاب و سنت سے بُعد و ناواقفیت کے باعث اور خاص طور پر حدیث سے اشتغال کی کمی کی وجہ سے زندگی میں جراثیم کی طرح پھیل رہی تھیں، اس کتاب میں ان سے مقابلہ اور ان سے تحفظ کی دعوت دی گئی ہے، اور مسلم معاشرہ کو ان سے پاک کرنے کا علاج تجویز کیا گیا ہے، اس کے بعد تہذیب اخلاق، تزکیہ نفس اور روحانی معالجات پر روشنی ڈالی گئی ہے، وصول الی اللہ اور قرب عند اللہ کے مقصد اور انسانی و ایمانی کمالات کے حصول کی راہ میں جو گھاٹیاں پڑتی ہیں، ان کا تذکرہ کیا گیا ہے، اور ان پر قابو پانے کا طریقہ بتایا گیا ہے۔
اس کتاب کا امتیاز یہ ہے کہ اس میں اذکار و عبادات، اصلاح عقائد و سلوک کے بیان کے ساتھ دعوت و تبلیغ، راہ خدا میں جہاد، عزیمت پر عمل، امت کی فکر، خدا تعالٰے کے نام کو بلند کرنے اور اس کے دین کے پرچم کو لہرانے اور اس کے تمکین فی الارض کی عملی تیاری کی دعوت بھی بلند آہنگی سے دی گئی ہے۔
اہم اصلاحی و تربیتی کتابوں کی فہرست میں حکیم الامت مولانا اشرف علی صاحب رحمہ اللہ تھانوی رحمہ اللہ کی کتاب "تعلیم الدین" بھی آتی ہے، جو ایک چوالیس (۱۴۴) صفحات پر مشتمل ہے، وہ عقائد، ایمانیات، اعمال و عبادات، معاملات، آداب معاشرت اور سلوک و طریقت کے بارے میں اہم ہدایات پر حاوی ہے، ان کی اس سے زیادہ جامع