اوسط درجہ کے اور مشغول مسلمان کے لئے لابدی ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لئے جو بلوغ اور عدم بلوغ کے عبوری دور سے گذر رہے ہیں، اسی لئے یہ کتاب تقریباً ایک صدی سے زائد ہندوستان کے شریف گھرانوں اور دین دار خاندانوں میں نصابی کتاب کی طرح پڑھی پڑھائی جاتی رہی، کتاب فارسی زبان میں ہے، جو برصغیر ہند کی اس عہد میں علمی و تعلیمی زبان تھی، کتاب متوسط سائز کے ۱۵۰ صفحات پر مشتمل ہے۔
اس موضوع پر اور اس مقصد کے پیش نظر بہترین کتابوں میں سے جس کا اپنے عہد کے اخلاق و اعمال پر گہرا اثر پڑا اور جس کی افادیت بہت وسیع اور دور رس ثابت ہوئی "صراط مستقیم" ہے جو تیرہویں صدی ہجری کی جہاد و اصلاح کی سب سے بڑی تحریک کے قائد و امام، مجاہد کبیر حضرت سید احمد شہید رحمہ اللہ علیہ (ش ۱۲۴۱ھ) کے ملفوظات و افادات کا مجموعہ ہے، جس کو ان کے رفیق و وزیر مولانا محمد اسمٰعیل شہید (ش ۱۲۴۶ھ) اور سید صاحب کے خلیفہ اکبر مولانا عبد الحی بڈھانوی (م ۱۲۴۳ھ) نے فارسی میں مرتب کیا، اس کتاب میں "صراط مستقیم" پر گامزن ہونے، شریعت اسلامی پر مضبوطی کے ساتھ جمے رہنے اور سنت نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کاربند ہونے کے سلسلہ کی بڑی روشن تعلیمات اور واضح ہدایات ہیں، اس میں طریق ولایت پر طریق نبوت اور تقرب بالنوافل پر تقرب بالفرائض کی فضیلت اور برتری کو ثابت کیا گیا ہے۔ عقائد کی تصحیح، توحید خالص کی تعلیم، شرک و بدعت کی (ان کے تمام انواع و اقسام کے ساتھ) تردید کتاب کا خاص امتیاز ہے، خاص طور پر ان بدعتوں کی نشان دہی کی گئی ہے، جو سید صاحب کے دور میں صوفیوں، عابدوں اور زاہدوں کے حلقے میں رواج پذیر تھیں، اور جو معقولات سے اشتغال رکھنے والوں، الحاد کے علم برداروں