اور وتر کا سفر و حضر میں اہتمام فرماتے تھے، اسی طرح فجر کی سنتوں کا، وتر نوافل و سنن میں سب سے موکَّد نماز ہے، فجر کی سنت ادا فرما کر آپ داہنی کروٹ آرام فرماتے، جماعت کے بارے میں آپ کا ارشاد ہے، کہ"جماعت کی نماز تنہا پڑھی جانے والی نماز پر ۲۷ درجہ فوقیت رکھتی ہے ۱"، حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ عنہ سے مروی ہے، "ہم نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا ہے کہ ( جماعت سے ) پیچھے رہنے والا وہی منافق ہوتا تھا، جس کا نفاق کھلا ہوا ہو ( ورنہ جماعت میں) وہ آدمی بھی لایا جاتا تھا، جس کو دو شخص پکڑا کر لائیں اور صف میں کھڑا کر دیں ۲"۔
آنحضرت صلے اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم سفر و حضر میں کبھی تہجد ترک نہیں فرماتے تھے، اور اگر کبھی نیند غالب آ جائے، یا تکلیف کی وجہ سے نہ پڑھ سکے تو دن میں بارہ۱۲ رکعتیں پڑھ لیتے تھے، رات میں آپ ( وتر کے ساتھ) گیارہ۱۱ رکعتیں یا تیرہ۱۳ رکعتیں پڑھتے، تہجد اور وتر کا معمول مختلف رہا ہے، وتر میں قنوت بھی پڑھتے تھے، رات کو قرأت کبھی سرّی فرماتے کبھی جہری، کبھی طویل رکعتیں پڑھتے کبھی مختصر، اور زیادہ تر آخری رات میں وتر پڑھتے تھے، رات دن میں کسی وقت بھی بحالت سفر سواری پر خواہ کدھر ہی اس کا رخ ہو نفل نمازیں پڑھ لیتے تھے، اور رکوع و سجدہ اشارہ سے فرماتے تھے۔
آنحضرت صلے اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے صحابۂ کرامؓ کسی بڑی نعمت کے
------------------------------
۱ متفق علیہ ۲ مسلم شریف۔ جماعت کا یہ حکم مردوں کے لئے ہے، ورنہ جہاں تک مسلمان عورت کا تعلق ہے تو اس کی نماز اپنے گھر میں مسجد سے افضل ہے، حضرت عبداللّٰہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ" رسول اللّٰہ صلے اللّٰہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ عورت کی نماز اپنی خواب گاہ میں پڑھنا اپنے کمرہ اور دالان میں پڑھنے سے بہتر ہے، اور اپنی کوٹھری میں پڑھنا خواب گاہ میں پڑھنے سے بہتر ہے"(ابو داؤد)