اس کتاب کو فارسی داں اور فارسی خواں، دینی طبقوں میں جو اختصار و سہولت کے طالب تھے، قبول عام اور رواج تام حاصل ہوا۔١؎
"احیاء علوم الدین" کے بعد اس تصنیفی رجحان کی آئینہ دار، زمانہ کی ضرورتوں اور تقاضوں کو پورا کرنے کی کامیاب اور مبارک کوشش، اور طالبین اصلاح و تربیت اور خاص طور پر ان سالکین و مسترشدین کی رہنمائی کا قیمتی سامان (جنھوں نے کسی مربی و مرشد کے ہاتھ میں ہاتھ دیا ہے، اور جو شریعت و سنت کے مطابق زندگی گذارنا چاہتے ہیں( سیدنا عبدالقادر جیلانی قدس سرہ (م 561ھ) کی کتاب "غنیۃ الطالبین" ہے، کتاب کا اصل نام "الغنیۃ الطالبی طریق الحق عز و جل" ہے، اس کتاب کی خصوصیت ہے کہ اس کو امت کے ایک مقبول ترین دینی پیشوا، اور روحانیت کے امام سیدنا عبدالقادر جیلانیؒ نے اپنے وابستگان، ارادت مندوں، اور بعد کے آنے والے طالبین صادقین کی خاطر تصنیف کیا تھا، اس میں فرائض و سنن، ان کے آداب، خداتعالےٰ کی معرفت کے آفاقی و انفسی دلائل و آیات، قرآن پاک و احادیث نبویہ کے عطر، سلف صالحین کے اخلاق فاضلہ و کیفیات عالیہ کے دل آویز اور سبق آموز واقعات جمع کردیئے گئے ہیں، تاکہ راہ خدا اس کی روشنی میں طے کی جاسکے، احکام خداوندی کی تعمیل کی جائے، اور منہیات سے پرہیز کیا جائے، کتاب میں ایک مسلمان کے لئے طہارت، نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج وغیرہ کے ضروری احکام، اور کتاب و سنت اور سیرت نبویﷺ سے ثابت شدہ اسلامی آداب بھی آگئے ہیں،
------------------------------
١؎ امام غزالیؒ کا اسی موضوع پر ایک مختصر رسالہ عربی میں "بدایۃ الھدایۃ" کے نام سے ہے، جس کو حواشی کے ساتھ حلب کے ایک عالم شیخ محمد الحجار نے ایڈیٹ کیا ہے، اور حلب کے مکتبہ الدعوۃ نے اس کو شائع کیا ہے، یہ رسالہ بھی مفید اور دین آموز ہے۔