یہ کتاب ہر اس شخص کے لیے رہنما اور مرشد کا کام دے سکتی ہے جس کو فقیہ کامل اور (اصلاح باطن کے لیے) طبیبِ حاذق میسر نہ ہو ۔ ساتھ ہی ساتھ اس میں کتاب کے عالی مرتبت مصنف نے اپنے ذاتی تجربات اور اوراد بھی بیان کیے ہیں۔ ان تمام مباحث میں وہ جادۂ سنت پر ثابت قدم ، بلند پایہ فقیہ، اور مذہبِ حنبلی کے ایک جید عالم کی حیثیت سے جلوہ گر نظر آتے ہیں۔ انھوں نے کتاب میں ایک باب امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا بھی شامل کیا ہے اور اہل سنت کے عقائد کی شرح امام احمد بن حنبل کے مبتع متکلمین کے مذہب پر کی ہے۔ خاص طور پر صفاتِ باری تعالیٰ کے مسئلہ اور فرقِ ضالۃ کی تردید میں انھیں کی ترجمانی ہے ۔
حضرت شیخؒ نے یہ بھی مناسب سمجھا کہ اس کتاب میں مجالسِ وعظ و ارشاد کو بھی شامل کیا جائے اور دنوں اور مہینوں کے فضائل بھی ذکر کر دئیے جائیں۔ تاکہ یہ کتاب ان مجالسِ ذکر و وعظ کی بھی کسی حد تک قائم مقام ہو جائے جن کی بغداد میں دھوم مچی ہوئی تھی۔ اور جن سے مردہ دلوں کی مسیحائی کا کام لیا جارہا تھا۔ ان فصول و ابواب میں انھوں نے (خالص محدثین کے طرز سے ذراہٹ کر ) افادۂ عام کے لیے قدرے توسع سے کام لیا ہے۔ کتاب کا اختتام مریدین کے آداب و اخلاق کے بیان پر ہوا ہے۔
یہ کتاب حضرت موصوف کے حلقہ بگوش مریدین و منتسبین اور ان تمام لوگوں کے لیے دستور العمل رہی ہے جو کتاب و سنت اور عقیدۂ سلف کی روشنی میں اپنی زندگی کو منضبط اور منظم کرنے چاہتے ہیں، اور اصلاحِ اخلاق اور صفائی باطن کا شوق رکھتے ہیں۔ اس کتاب سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد ایشیا اور افریقہ دونوں براعظموں میں لاکھوں تک پہونچتی ہے۔
اسی ارادہ اور قصد سے محدث جلیل اور عربی لغت کے ماہر و محقق علامہ مجد الدین