ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2013 |
¾اكستان Ù |
|
معنی کی وحی ہوتی تھی ؟ اگر نہیں تو شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی کی عبارت مرقومہ تفہیمات ِ الٰہیہ کا کیا مطلب ہے ؟ اِرشاد فرمایا کہ قرآن شریف کے الفاظ اَور معنی دونوں من جانب اللہ وحی اِلٰہی ہیں۔حضرت شاہ صاحب نے جو بیان فرمایا ہے تو اِس سے غرض وحی غیر متلو (اَحادیث) ہے ۔وحی غیر متلو کے الفاظ رسول اللہ ۖ کے ہوتے تھے اَور معنی من جانب اللہ وحی اِلٰہی ہوتے تھے ۔اَور اِرشاد فرمایا : ( وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَویٰo اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْی یُّوْحٰی ) (٤) ایک تقریر میں اِرشاد فرمایا ( فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ ) میں اللہ تعالیٰ نے ''فِیْ'' لِلظَّرْفِیَّةِ لا کر اِشارہ کیا، جس طرح ظرف مظروف کو گھیرے ہوتا ہے اِسی طرح ''اَحْسَنِیَّتْ'' اِنسان کو گھیرے ہوئے ہے۔ (٥) ( وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْیٍٔ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ ) کے بارے میں اِرشاد فرمایا کہ اِس آیت میں فعل کو لایا گیا ہے جو حدوث اَور تجدد پر دَلالت کرتا ہے اَور لامِ تاکید کو لایا گیا ہے کہ اِنسان کی آزمائش کا سلسلہ ختم ہونے والا نہیں ہے بلکہ ہمیشہ ہمیشہ اُس کی آزمائش ہوتی رہے گی۔ (٦) ایک مرتبہ اِرشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے تعلیم ہی کا کار خانہ بنایا ہے ( وَعَلَّمَ اٰدَمَ الْاَسْمَآئَ ) اِس آیت سے ظاہر ہے کہ سب سے پہلے مدرس اللہ تعالیٰ اَور طالب علم آدم علیہ السلام ہیں۔ (٧) تقریر بخاری شریف میں اِرشاد فرمایا سوال ہوتا ہے کہ آنحضرت ۖ غارِ حرا میں وحی نازل ہونے سے پیشتر کس شریعت کے مطابق عبادت کرتے تھے ؟ جواب دیا جاتا ہے کہ (i) آپ کو اللہ تعالیٰ نے عبادت کا طریقہ اِلہام فرمادیا ہوگا۔ (ii) یا آپ نے اَپنے اِجتہاد سے معلوم کر لیا ہوگا۔ (iii) یا آپ شریعت ِ اِبراہیمی پر عبادت کرتے ہوں گے۔ اِس لیے کہ زمانہ فترت میں