ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2007 |
¾اكستان Ù |
|
(٦) سورۂ لہب میں اَبولہب سے مراد قریش کے عام سردار ہیں۔ (٦) اَبولہب سے نبی کریم ۖ کا کافر چچا مراد ہے۔ (٧) اَصحاب الفیل کو پرندوں نے ہلاک نہیں کیا تھا بلکہ وہ قریش کے پتھرائو اور آندھی سے ہلاک ہوئے تھے۔ پرندے صرف اُن کی لاشوں کو کھانے کے لیے آئے تھے۔ (٧) اللہ تعالیٰ نے اَصحاب الفیل پر ایسے پرندے بھیجے جنہوں نے اُن کو تباہ و برباد کرکے رَکھ دیا تھا۔ (٨) سنت قرآن سے مقدم ہے۔ (٨) قرآن سنت سے مقدم ہے۔ (٩) سنت صرف اَفعال کا نام ہے۔ اِس کی اِبتداء حضرت محمد ۖ سے نہیں بلکہ حضرت اِبراہیم علیہ السلام سے ہوتی ہے۔ (٩) سنت میں نبی ۖ کے اَقوال، اَفعال اور تقریرات(خاموش تائیدیں) سب شامل ہیں اور وہ محمد ۖ سے شروع ہوتی ہے۔ (٦) تَبَّتْ یَدَا اَبِیْ لَھَبٍ وَّتَبَّ ''ابولہب کے بازو ٹوٹ گئے اور وہ خود بھی ہلاک ہوا۔'' (تفسیر) ''بازو ٹوٹ گئے'' یعنی اُن کے اَعوان و اَنصار ہلاک ہوئے اور اُس کی سیاسی قوت ختم ہوگئی۔ '' (البیان ص ٢٦٠ مطبوعہ ستمبر ١٩٩٨ئ) (٧) ''اللہ تعالیٰ نے ساف و حاصب کے طوفان سے اُنہیں (اَصحاب الفیل کو) اِس طرح پامال کیا کہ کوئی اُن کی لاشیں اُٹھانے والا نہ رہا۔ وہ میدان میں پڑی تھیں اور گوشت خور پرندے اُنہیں نوچنے اور کھانے کے لیے اُن پر جھپٹ رہے تھے … آیت کا مدعا یہ ہے کہ تمہاری (قریش کی) مدافعت اگرچہ ایسی کمزور تھی کہ تم پہاڑوں میں چُھپے ہوئے اُنہیں کنکر پتھر ماررہے تھے لیکن جب تم نے حوصلہ کیا اور جو کچھ تم کرسکتے تھے کرڈالا تو اللہ نے اپنی سنت کے مطابق تمہاری مدد کی اور ساف و حاصب کا طوفان بھیج کر اپنی ایسی شان دکھائی کہ اُنہیں کھایا ہوا بھوسا بنا دیا۔'' (البیان تفسیر سورۂ الفیل ص ٢٤٠، ٢٤١) (٨) ''سنت قرآن کے بعد نہیں بلکہ قرآن سے مقدم ہے۔ (میزان ص ٥٢، طبع ِ دوم اپریل ٢٠٠٢ئ) (٩) (الف) ''سنت کا تعلق تمام تر عملی زندگی سے ہے یعنی وہ چیزیں جو کرنے کی ہیں، علمی نوعیت کی کوئی چیز بھی سنت نہیں ہے اِس کا دائرہ کرنے کے کام ہیں۔'' (میزان ص ٦٥ طبع ِدوم اپریل ٢٠٠٢ئ)