ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2007 |
اكستان |
|
(٢) قرآن کا ایک نام ''میزان'' بھی ہے۔ (٢) ''میزان'' قرآن کے نامو ں میں سے کوئی نام نہیں ہے۔ (٣) قرآن کی متشابہ آیات کا بھی ایک واضح اور قطعی مفہوم سمجھا جاسکتا ہے۔ (٣) قرآن کی متشابہ آیات کا واضح اور قطعی تفصیلی مفہوم متعین نہیں کیا جاسکتا۔ (٤) سورۂ نصر مکی ہے۔ (٤) سورۂ نصر مدنی ہے۔ (٥) قرآن میں''اَصحابُ الاخدود'' سے مراد دَورِ نبوی ۖ کے قریش کے فراعنہ ہیں۔ (٥) اَصحابُ الاخدود کا واقعہ بعثت ِ نبوی ۖ سے بہت پہلے زمانے کا ہے۔ (٢) (الف) ''قرآن میزان ہے۔'' (برہان ص ١٤٠) (ب) ''اَللّٰہُ الَّذِیْ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ (الشورٰی ٤٢: ١٧) ''اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اُتاری یعنی میزان نازل کی ہے۔'' اِس آیت میں اَلْمِیْزَانَ سے پہلے '' و '' تفسیر کے لیے ہے اِس لیے اَلْمِیْزَانَ درحقیقت یہاں' 'الکتاب'' ہی کا بیان ہے۔'' (میزان ص ٢٢، طبع ِ دوم اَپریل ٢٠٠٢ئ) (٣) ''یہ بات ہی صحیح نہیں ہے کہ مُحکم اور متشابہ کو ہم پورے یقین کے ساتھ ایک دُوسرے سے ممیز نہیں کرسکتے یا متشابہات کا مفہوم سمجھنے سے قاصر ہیں۔ لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ متشابہات کا مفہوم سمجھنا ممکن نہیں ہے۔'' (میزان ص ٣٤، ٣٥ طبع ِ دوم اَپریل ٢٠٠٢ئ) (٤) ''سورۂ کافرون کے بعد اور لہب سے پہلے اِس سورة (النصر) کے مقام سے واضح ہے کہ سورۂ کوثر کی طرح یہ بھی اُمّ القریٰ مکہ میں رسول اللہ ۖ کی دعوت کے مرحلۂ ہجرت و براء ت میں آپ کے لیے ایک عظیم بشارت کی حیثیت سے نازل ہوئی ہے۔'' (البیان ص ٢٥٢ مطبوعہ ستمبر ١٩٩٨ئ) (٥) ''یہ (قُتِلَ اَصْحٰبُ الْاُخْدُوْدِ o اَلنَّارِ ذَاتِ الْوَقُوْدِ) (البروج ٤ ، ٥) قریش کے اُن فراعنہ کو جہنم کی وعید ہے جو مسلمانوں کو ایمان سے پھیرنے کے لیے ظلم و ستم کا بازار گرم کیے ہوئے تھے۔ اُنہیں بتایا گیا ہے کہ وہ اگر اپنی اِس رَوش سے باز نہ آئے تو دوزخ کی اُس گھاٹی میں پھینک دیئے جائیں گے جو اِیندھن سے بھری ہوئی ہے۔'' (البیان ص ١٥٧ طبع ستمبر ١٩٩٨ئ)