ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2007 |
¾اكستان Ù |
|
٭ حدیث وقرآن کی تدریس پر اُجرت لینا حضرت امام حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ کے قول میں توجائز ہی نہیں ،مگربعدکے ائمہ حنفیہ نے اِس ضرورت سے اجازت دی ہے کہ مدرس اگر ضروریات ِدُنیا ویہ ،زراعت، تجارت،صنعت وغیرہ میں مشغول ہو جائے گا تو علم ضائع ہو جائے گا،د ین میں سخت خلل پڑ ے گا۔ ٭ اگر حافظ رمضان شریف کے اندر قرآن سنانے پر کوئی مقادر مقرر کرتا ہے یا اگر مقتدی اِس کو کچھ نہ دیں ،یا کم دیں تو جھگڑتا ہے،قرآن سنانا بند کردیتا ہے اگر چہ شرط زبانی نہیں کرتا ،مگر معاملہ ایسا ہی کرتا ہے ،تو اِس صورت میں اِس کا رقم لینا جائز نہیں ،نماز ادا ہوجائے گی ،مگر وہ فضلیت قرآن کے سننے اور سنانے کی حاصل نہ ہوگی ۔ ٭ عامل نے علوی عمل کرکے میاں بیوی میں محبت پیداکرادی ،اختلاف کو دُور کردیا تو اُجرت تو جائز ہی ہو گی ،ممکن ہے کہ ثواب بھی مل جائے ۔ ٭ آسیب کو دُور کرنا ،جنات کی تکالیف سے نجات دلانا ،سانپ بچھو کے زہر کو اُتارنا ،مختلف امراض کو تعویزوں سے دُور کرنا، سب پر اُجرت جائز ہے ۔ ٭ رَمل سکیھنا اور سکھانا دونوں ناجائز اورحرام ہیں ،دفع شرکے لیے اگر چہ بعض حضرات نے اجازت دی ہے مگر فتوی عدم ِجواز کا ہے۔ ٭ حضرت امام ابو حنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور دُوسرے محققین اِرشاد فرماتے ہیں کہ اگر کسی کے قول یا فعل میں سو اِحتمالات ہوں ،ننا نوے اِحتمالات کفر کے ہیں اور ایک اِحتمال ایمان کا ہے ،تو تکفیر نہ کرنا چاہیے۔ ٭ مردوں کے لیے شرعی لباس کی کوئی وضع قطع معین نہیں ،بجزاِس کے کہ کشف ِعورت یعنی ناف سے لے کر گھٹنے تک کا کھلنا نہ ہو،اگر یہ حصہ کل یا بعض کسی لباس میں کھلتاہے تو ناجائز ہو گاجیسے دھوتی اور ایسا لباس جو کہ غیر مسلم قوموں کا مخصوص ہو اور اُس کے پہننے سے اِس کا تشبہ ہو تا ہو تو وہ بھی حرام ہے۔ ٭ ہر عورت خواہ اجنبی ہو یارشتہ دار ذی رحم محرم ہو یا جائز النکاح اِقتداء (نماز میں )کرسکتی ہے، اور نماز ہر دو کی صحیح ہو گی ،ہاں اِس کو امام کے پیچھے کھڑا ہونا ہوگا یعنی اگر ایک ہی مقتدی ہے تو امام کے داہنے نہیں کھڑی ہو سکتی اگر چہ اپنی ماں ہی ہو ۔ ٭ لفظ ''حق ''مختلف معنوں میں آتا ہے : (١ )واجب عقلی ،جس کا ثبوت اور لزوم دلائل ِعقلیہ