ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2007 |
¾اكستان Ù |
|
٭ اَوامر شرعیہ کی اقسام متعدد ہیں ،بعض تو ایسی ہیں جن میں قیوداور خصوصی احوال متصورات اصلیہ میں سے ہیں ۔اِن میں اطلاق اور تغیر دُرست نہیں ہے جس طرح نماز ہے ،اور بعض ایسی ہیں کہ اُن میں قیود اور کیفیات ملحوظ ہی نہیں ہیںجیسے جہا د ہے ،اِس میں اعلاء ِکلمة اللہ مقصود ہے ،خواہ بالسیف ہو یا بالسنان والرماح ،خواہ ہوائی جہازوں اور تو پ اور بندوقوں سے ہو ۔ ٭ خود کُشی کرنی اور اُس پر عزم وارادہ کرلینا انتہائی بزدلی،انتہائی ظلم اور انتہائی گناہ ہے۔ ٭ ناواقفیت مسلمانوںکے لیے اِس ملک اور اِس زمانہ میں عذر نہیں ۔ ٭ صحت ِنمازکے لیے حضور قلب کا صرف ادنیٰ درجہ شرط ہے ۔اور وہ یہ کہ کم از کم از کسی رُکن میں خیال ہو کہ میں نماز ادا کررہاہوں ۔ ٭ نماز میں خطرات ، وساوس ،اور احادیث ِنفس کا آنا مفسد ِنماز نہیں ہے،البتہ اِس میں نقصان پیدا کرتے ہیں ۔ ٭ بخشنے والے کو ثواب قرآن میں سے کسی اُمید کا حق نہیں ہے ،جب وہ اپنی چیز دے چکا ،تو اُس میں سے اُس کو کیا مل سکتا ہے؟ہاں جن حضرات کو وہ ثواب پہنچے گا وہ حسب ِاِرشاد حُےِّےْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْھَا ۔دُعا اور سفارش بارگاہ ِالٰہی میں کریں گے تو ممکن ہے کہ اُن کی دعاؤں کی برکت سے اِس قدر فائدہ ہو جائے جو کہ بخشنے والے کو اصل ثواب میں حاصل نہ ہوتا ۔ ٭ تقدیر کا مسئلہ حق ہے اور اُس پر ایمان لانا ضرور ی ہے،مگر اِس کی تعلیم اِس لیے نہیں ہے کہ کارخانہ ہائے عالم ِاسباب کو معطل کردیا جائے اور انسان اُمورِ دُنیا اور آخرت کے اندر ہاتھ پیر کٹا کے بیٹھ جائے۔ ٭ تقدیر دو ہیں : ایک مُبرم،دُوسری معلق ۔مبر م میںتغیر نہیں ہوتا ،معلق میں ہوتا ہے۔بسا اوقات کارکنانِ تکوین وایجاد کو یہ بتلایا جاتا ہے کہ فلاں شخص اگر اپنے رشتہ داروں کی خدمت گزاری کرے گا تو اُس کی عمر ساٹھ سال ہوگی اور اگر نہ کرے گا تو چالیس سال ہوگی ،پھر اُس کی عمر چالیس سال کردی جاتی ہے۔اس لیے کہ اُس نے صلہ رحمی نہ کی ،کارکنان ِتکوین پر کبھی شرط ظاہرنہیں ہوتی،مگر علمِ الٰہی میں شرط تھی۔ نیچے کے عملہ والے اِس کو مبرم سمجھتے ہیں مگر وہ حقیقت میں معلق تھی ،اِس لیے خیال کیا جاتا ہے کہ نوشتۂ تقدیربدل گیا ۔