ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2005 |
اكستان |
|
جن کے صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوں اُ ن کی تسلی کے لیے ضروری مضمون : حضرات ! آپ کو خوب یاد ہوگا کہ حضرت خصر علیہ السلام نے جس لڑکے کو قتل کردیا تھا اُس کے لیے اوراُس کے والدین کے لیے (اِس میں بڑی )مصلحت بھی تھی ۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس لڑکے کے قتل ہونے کے بعداللہ تعالیٰ نے اُس کے والدین کو ایک لڑکی دی جس کی اولاد میں انبیاء علیہم السلام پیدا ہوئے ۔ بتلائے اگر آپ کے لڑکا ہوتا اور ویسا ہی ہوتا جیسا وہ لڑکا تھا جسے حضرت خضر علیہ السلام نے مارڈالا تھا تو آپ کیا کرلیتے ؟ یہ خد اکی بڑی مصلحت ہے کہ اُس نے آپ کو لڑکیاں دیں کیونکہ عموماً لڑکیاں خاندان کو بدنام نہیں کیا کرتیں اور والدین کی اطاعت بھی خوب کرتی ہیں، اور لڑکے تو آج کل ایسے آزاد ہوتے ہیں کہ خدا کی پناہ ۔ ان کے ہونے سے تو نہ ہونا ہی بھلا تھا ۔اب آج کل اگر حضرت خضر علیہ السلام ایسے لڑکوں کو نہیں مارتے تو اللہ تو ذبح کرسکتے ہیں۔اور اللہ کا پیدانہ کرنا (یا پیدا کرکے موت دے دینا)یہ بھی ایک گونہ ذبح ہی کے مثل ہے ۔ اورجس کو اللہ تعالیٰ کچھ بھی اولاد نہ دیں نہ لڑکا نہ لڑکی، اس کے لیے یہی مصلحت ہے ۔ کیونکہ وہ بندوں کی مصلحتوں کو اُن سے زیادہ جانتے ہیں ۔دیکھئے آج ایک شخص بے فکری سے دین کے کام میں لگا ہوا ہے کیونکہ اس کے اولاد نہیں، اب اگر اُس کے اولاد ہو جائے تو کیا خبر ہے اُس وقت یہ بے فکری رہے یا نہ رہے۔ اولاد کے ساتھ ہزاروں فکریں لگی ہوئی ہیں ۔ (حقوق البیت ص ٣٦ ) اولاد کے پس ِپُشت مصیبتیں اور پریشانیاں : عورت کے لیے تو بچہ کا ہونا سخت مصیبت ہے ۔لوگ کہا کرتے ہیں کہ عورت دوبارہ جنم لیتی ہے ۔ مگر مرد کے لیے بھی کچھ کم مصیبت نہیںکہ زچہ خانہ کی خبر گیری ، گوند ،سونٹھ ، گھی وغیرہ کے لیے خرچ کی ضرورت ہوتی ہے اور بچہ صاحب جو تشریف لائے ہیں وہ تو مانند پھول اور پان کے ہیں (یعنی نہایت کمزور)،ذراسے میں کمہلا جاتے ہیں، سرد ہوا لگ گئی تو اینٹھ گئے اور گرم ہوا لگ گئی (یعنی لُو لگی گئی) تو بھڑک اُٹھے ۔ کبھی رونا شروع ہوا توروئے ہی جاتے ہیں اوریہ پتہ نہیں چلتا کہ کیوں روتے ہیں ،بچہ حیوان بے زبان ہوتا ہے اپنا دُکھ بیان نہیں کرسکتا ۔ علاج بھی قرائن اورقیاس سے (یعنی اندازے سے ) کیا جاتا ہے ۔ کبھی یہ خیال ہوتاہے کہ پیٹ میں درد ہو رہا ہے اس واسطے روتا ہے لہٰذا گھٹی دی جاتی ہے اورکبھی خیال ہوتا ہے کہ کان میں درد ہے اس کے واسطے تمباکو کی پِیک کان میں ڈلوائی