ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2005 |
اكستان |
|
تمنّاکی جائے۔ یوں کسی کو طبعی طورپر اولاد کی بھی تمنّا ہو تو میں اُس کو بُرا نہیں کہتا کیونکہ اولاد کی محبت انسان میں طبعی (فطری )ہے چنانچہ بعض لوگ جنت میں بھی اولاد کی تمنّا کریں گے حالانکہ وہاں نام کا چلنا بھی مقصود نہ ہوگاکیونکہ جنت کے رہنے والے کبھی ختم ہی نہ ہوں گے بلکہ وہاں اِس تمنّا کا منشاء (سبب) محض طبعی تقاضا ہوگا، تو میں اس سے منع نہیں کرتا۔ مقصود صرف یہ ہے کہ اس طبعی تقاضے کی وجہ سے عورت کی خطاء نکال لیناکہ تیرے اولاد نہیں ہوتی یا لڑکیاں ہی ہوتی ہیں بڑی غلطی ہے اور اس قسم کے غیر اختیاری جرائم نکال کر اُن سے خفا ہونا اوراُن پر زیادتی کرنا ممنوع (اور ناجائز حرام ہے) اس میں ان بیچاریوں کی کیا خطا ،جو ہوتا ہے اللہ کی طرف سے ہوتا ہے ۔ (حقوق البیت ص٣٩) یہ تو نہایت سخت غلطی ہے مثلاً بعض لوگ بیوی سے کہتے ہیں کہ کمبخت تیرے کبھی اولاد ہی نہیں ہوتی تو اس میں وہ بیچاری کیا کرے ۔ اولاد کا ہونا کسی کے اختیار میں تھوڑی ہے ۔ بعض دفعہ بادشاہوں کے اولاد نہیں ہوتی حالانکہ وہ ہر قسم کی مقوی غذائیں اور(حمل والی )دوائیں بھی استعمال کرتے ہیں مگر پھر بھی خاک نہیں ہوتا ۔ یہ تو محض اللہ تعالیٰ کے قبضہ واختیار کی بات ہے اس میں عورتوں کا کیا قصور ہے ۔ بعض مردوں کو ہم نے دیکھا ہے کہ وہ بیوی سے اس بات پر خفا ہوتے ہیں کہ کمبخت تیرے تو لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوتی ہیں ۔ سو اوّل تو اِس میں اِس کی کیاخطاء ہے ۔ بلکہ اطبّاء (ڈاکٹروں )سے پوچھو تو وہ شاید اِس میں آپ ہی کا قصور بتلائیں ۔ دوسرے یہ ناگواری کی بات بھی نہیں ۔ (حقوق البیت ص٣٥ ملحقہ حقوق الزوجین ) اگر اولاد ذخیرۂ آخرت ہو تو بہت بڑی نعمت ہے : اگر اولاد دین میں مدد دے تو سبحان اللہ (اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے )۔ایک بزرگ تھے وہ نکاح نہ کرتے تھے ایک مرتبہ سور ہے تھے کہ اچانک چونک پڑے اورکہنے لگے کہ جلدی کوئی لڑکی لائو (نکاح کرنا ہے) ۔ ایک مخلص مرید حاضر تھے، اُن کی ایک لڑکی کنواری تھی، لاکر فوراً حاضر کی ،اُسی وقت نکاح ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ایک بچہ دیا اوروہ مرگیا ۔بیوی سے کہا کہ جو میرا مطلب تھا پورا ہو گیا اب تجھ کو اختیار ہے۔ اگرتجھ کو دُنیا کی خواہش ہے تومیں تجھ کو آزاد کردوں کسی سے نکاح کرلے۔ اوراگر اللہ کی یاد میں اپنی عمرختم کرنا ہوتو یہاں رہو۔ چونکہ وہ بیوی اُن کے پاس رہ چکی تھی اورصحبت کا ا ثر اُس کے اندر آگیا تھا ۔ اُس نے کہا کہ میں تو اب کہیں نہیں جائوں گی، چنانچہ