ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جون 2005 |
¾اكستان Ù |
|
نبوی لیل ونہار ( حضرت مولانا سعد حسن صاحب ٹونکی ) آنحضرت ۖ کا ذوقِ سلیم لباس میں : ٭ تما م لباسوں میں آنحضرت ۖ کُرتہ زیادہ پسند فرماتے ۔ ٭ کُرتے کی آستین نہ اتنی تنگ رکھتے اور نہ اتنی کشادہ بلکہ درمیانی ہوتی اورآستین ہاتھ کے گُٹے تک رکھتے ٭ آنحضرت ۖ کے سفر کا کُرتہ وطن کے کُرتے سے دامن میں اور آستین میں کسی قدر چھوٹا ہوتا تھا۔ ٭ آنحضرت ۖ کی قمیص کا گریبان سینہ پر ہوتا تھا۔ ٭ آنحضرت ۖ کبھی اپنے کُرتے کا گریبان کھول لیا کرتے اورسینۂ مبارک صاف نظر آتا اوراِسی حالت میں نماز پڑھ لیتے ۔ ٭ جب آپ ۖ قمیص زیب ِتن فرماتے تو پہلے سیدھا ہاتھ سیدھی آستین میں ڈالتے اورپھر اُلٹا ہاتھ اُلٹی آستین میں۔ ٭ آپ ۖنے پاجامہ کبھی نہیں پہنا بلکہ ہمیشہ تہبند باندھا ہے۔ البتہ پاجامہ پہننے کے لیے خریدا ہے اور اپنے احباب کو پہنتے دیکھا ہے۔ ٭ آپ ۖ تہبند ہمیشہ ناف سے نیچا باندھتے اورنصف پنڈلی سے اُونچا رکھتے ۔ ٭ آنحضرت ۖ کے تہبند کا اگلا حصہ پچھلے حصہ سے قدرے نیچا ہوتا تھا۔ ٭ آپ ۖ کے اوڑھنے کی چادر چار گز لمبائی میں اور دو گز ایک بالشت چوڑائی میں ہوتی تھی۔ ٭ کبھی آپ ۖ چادر کو اِس طرح اُوڑھتے کہ چادر سیدھی بغل سے نکال کر اُلٹے کاندھے پر ڈال لیتے۔ ٭ آنحضرت ۖ نے اپنے پہننے کے کپڑوں میں سے مثلاً کرتہ تہبند چادر یا جوتا وغیرہ ،اِن میں