ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2004 |
اكستان |
|
انسان بہیمیت اور ملکیت کا مجموعہ ہے ، بہیمیت تین صفات کو پیدا کرتی ہے : (١) جوشِ نفس یعنی خواہشات (٢) قہرِ و غضب (٣) تکبر وپندار ۔ یہ تینوں اگر ملکیت کے تابع ہوجاتے ہیں تو تین کمالات بالترتیب پیدا ہو جاتے ہیں۔جوش ِ نفس تابع ملکیت ہو کر عفت ،پاکدامنی و قناعت اور پرہیز گاری میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔ قہرو غضب ، شجاعت میں بدل جاتے ہیں ۔تکبرو پندار تواضع کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور انسانیت کمال کو پہنچ جاتی ہے۔ ملکیت کے تابع ہونے کا مفہوم یہ ہے کہ یہ تینوں بہیمی طاقتیں رضائے الٰہی کے ماتحت آجاتی ہیں ۔خواہشِ نفس محل رضاء الٰہی میں استعمال ہوتی ہے مثلاًنکاح ۔اور جہاں اللہ کی رضاء نہ ہو بلکہ غضب ہو وہاں استعمال نہیں ہوتی مثلاً زنا وغیرہ،اسی طرح خواہش حلال کھانے اور کمانے میں استعمال ہوتی ہے ،حرام کھانے اور حرام کمانے مثلاً سُود، ظلم، غضب،چوری ،رشوت اور دھوکہ وغیرہ میں استعمال نہیں ہوتی۔ قہروغضب ،حفاظتِ خود اختیاری یا حفاظتِ حقوق مظلومین وحفاظت حقوقِ الہیہ میں استعمال ہوتاہے ،اور اس کے خلاف مثلاً انسانوں پر ظلم اور ناحق میں استعمال نہیں ہوتا ،یہی بہادری و شجاعت کہلاتی ہے، باقی درندگی ہے۔ ملکیت کا اثر تقوٰی خشیتہ اللہ اور خوفِ آخرت ہے جس سے محاسبۂ نفس ، علم ومعرفت وغیرہ پیدا ہوتے ہیں کہ یہ اوصاف انسان ہی کے مخصوص کمالات ہیں۔ ان کمالاتِ چہار گانہ کے تحت ہم سیرتِ نبویہ پر بحث کرتے ہیں۔ (١) عفت و قناعت : یہ دو وصف حضور علیہ السلام کے ایسے ہیں کہ دوست دُشمن اقراری ہیں کہ آپ نے بچپن سے جوانی اور جوانی سے ادھیڑ عمر تک یعنی قریباً ٥٣سال کی زندگی اپنے دُشمنوں یعنی کفار مکہ اور قریش میں گزاری ،جہاں نہ کوئی حکومت موجود تھی نہ قانون اور پورا ماحول سیاہ کارانہ تھا اور اس کوعیب بھی نہ سمجھا جاتا تھا۔زنا ،شراب اور سُود خواری عام تھی ،اِن ہی لوگوں میں رہ کر آپ کو خلعتِ نبوت سے نوازا گیا اور پوری سوسائٹی دُشمن بن گئی اور آپ کے قتل کے در پئے ہوگئے لیکن ان دُشمنوں کی زبان سے بھی ایک لفظ آپ کی ذات کے متعلق نہ نکل سکا جو آپ کی پاکدامنی ،عفت، قناعت اور امانت کے خلاف ہو بلکہ آپ کو اپنے جھگڑوں کا حَکَم ْمان کر آپ سے فیصلہ کراتے تھے اور ''امین '' کے لقب سے مشہور تھے یعنی آپ وہ ذات ہیں کہ آپ سے ہرکسی کی جان ، مال اور عزت باامن اور محفوظ ہے، بلکہ بعد ا ز ہجرت ا پ کے اُس وقت کے بدترین دُشمن ابوسفیان سے ہر کلیس شاہِ رُوم نے پوچھا : ھل کنتم تتہمونہ بالکذب قبل ان یقول ما قال کیا تم اُن پر جھوٹ کا گمان و تہمت کا خیال کرتے رہے ہو دعوٰیٔ نبوت سے پہلے۔ قال لا جواباً ابوسفیان نے کہا کہ ''نہیں''۔آپ کی کفار میں بھی سچائی کی اس شہرت کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا۔ اور کفار نے جو قرآن کے دُشمن تھے ،سُن کر اس کا انکار نہیں