تحفہ تراویح |
سم اللہ |
|
فرمایا گیا کہ یہ قرآن لوگوں کیلئے احکام پہونچاتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ لوگ عذاب سے ڈرائے جائیں ، اور لوگ اس بات کا یقین کر لیں کہ اللہ ہی معبود بر حق ہیں ۔
اس کے بعد سورۂ حجر شروع ہوتی ہے اس میں اللہ نے ان لوگوں کو تنبیہ فرمائی ہے جو حضور کی دعوت دین اور اسلام کا مزاق اڑاتے تھے اور حضور پر دیوانگی کی تہمت لگاتے تھے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہیکہ اے منکرو!تم کو معلوم ہونا چاہیئے کہ قرآن اللہ کا ذکر ہے جو اس نے اپنے نبی پر نازل فرمایا اور یہ کہ اللہ ہی خود اس کا محافظ اور نگہبان ہے ’’ اِنَّانَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحَافِظُوْنَ اللہ تعالیٰ حضور کو تسلی دیتے ہیں کہ آپ منکرین کی باتوں سے دل برداشتہ نہ ہوں اور ان کی دھمکیوں کا مطلق اثر نہ لیں جولوگ بہکے ہوئے ہیں وہ ابلیس کے پیروکار ہیں اور وہ جہنمی ٹہرینگے
اے نبی! لوگوں سے کہہ دو کہ اللہ رحیم اور درگذر فرمانے والا ہے لیکن ساتھ میں اس کا عذاب سخت اور درد ناک بھی ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے اے نبی ہمیں معلوم ہیکہ آپ کو کفار مکہ کی باتیں سخت ناگوار گذرتی ہے ، اور آپ کیلئے تکلیف کا باعث ہوتی ہے ’’ وَلَقَدْنَعْلَمُ اَنَّکَ یَضِیْقُ صَدْرُکَ بِمَا یَقُوْلُوْنَ ‘‘ اس کا مداوا یہ ہیکہ آپ اپنے رب کی حمد وتسبیح میں مشغول رہیں اور تا زیست اسی کی عبادت وبندگی میں وقت گذاریں ، ’’ وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَأتِیَکَ الْیَقِیْنُ‘‘
اس کے بعد سورۂ نحل شروع ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے’’ اَتٰٓی اَمْرُ اللّٰہِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْاہْ، سُبْحَانَہٗ وَتَعَالیٰ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ‘‘ اللہ کا حکم آچکا تم جلدی نہ مچاؤ اللہ کی ذات پاک ہے تمہارے شرک سے بہت بالا وبرتر ہے ، نادانو! تم عذاب کا تقاضہ کر رہے ہو یاد رکھو وہ وقت اب دور نہیں جب تم اپنی سرکشی اور بد اعمالی کی سزا پاؤگے ،تم نا شکر گذار ہو حالا نکہ تم اپنے رب کی نعمتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ اس نے تمہارے آرام کیلئے اور تمہاری بار برداری کیلئے طرح طرح کی چیزیں اور جانور پیدا فرمادیئے ہیں ،غور کرنے والوں کیلئے ان میں اللہ کی بڑی نشانیاں ہیں ۔
اے مشرکو! ذرہ گھوم پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا اور انکی بستیاں کس طرح