Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2006

¾اكستان Ù

44 - 64
خریدار کے وکیل بن گئے اور وکیل کا تصرف مؤکل کی طرف منسوب ہوتا ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ جب یہ ایک منکر ہے تو اُس وقت ملازموں کے کہنے پر خاموشی دُرست نہیں بلکہ ''نہی '' کرنا واجب ہے۔ 
-2  کمپنیوں والے جو اِتنے بیش قیمت انعامات دُکانداروں کو دیتے ہیں یہ سرمایہ دارانہ نظام کا طریقہ ہے۔ اصل ہمدردی تو صارف سے ہونی چاہیے کہ اُس کو رعایت ملے ورنہ دُکانداروں کو دیے گئے انعامات کا بوجھ بھی بالآخر صارفین پر پڑے گا کیونکہ عام طور سے انعامات کو بھی اخراجات میں شمار کرکے   اشیاء کی قیمت طے کی جاتی ہے۔ 
-3   بعض اوقات کمپنی والے اپنی مصنوعات کی کسی ایک یا چند ایک پیکنگ میں انعامی پرچی رکھ دیتے ہیں تاکہ لوگ اُس انعام کے لالچ میں زیادہ خریداری کریں۔ چونکہ وہ انعام کسی ایک کا یا چند کا نکلنا ہے اِس لیے ہر خریدارکیلیے اُس انعام کے نکلنے کا وجود خطر واندیشہ کا شکار ہے اور چونکہ جوئے کے معنی میں یہ بات شامل ہوتی ہے اسلیے جو خریدار اِس موہوم انعام کے لالچ میں وہ سامان خریدتا ہے وہ ایک درجہ میں جوا کرتا ہے۔ 
حضرت مولانا مفتی محمدشفیع صاحب رحمہ اﷲ اِسی کی مثل ایک صورت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں  : 
''مختلف قسم کی نمائشوں کے اندر داخلہ کا ٹکٹ ہوتا ہے اور نمائش کے منتظمین یہ اعلان کرتے ہیں کہ جو شخص مثلاً دس روپے کا ٹکٹ یکمشت خریدے گا وہ اپنے اِس ٹکٹ کے ذریعہ عام لوگوں کی طرح نمائش میں بھی داخل ہوسکے گا اور اِن ٹکٹوں پر بذریعہ قرعہ اندازی کچھ انعام مقرر ہوتے ہیں جس کا نمبر نکل آئے اُس کو وہ انعام بھی ملتا ہے۔ یہ صورت صریح قمار سے تو نکل جاتی ہے کیونکہ ٹکٹ خریدنے والے کو اُس ٹکٹ کا معاوضہ بصورت ِداخلہ نمائش مل جاتا ہے۔ لیکن اب مدارنیت پر رہ جاتا ہے جو شخص موہوم انعام کی غرض سے یہ ٹکٹ خریدتا ہے وہ ایک گونہ قمار کا اِرتکاب کررہا ہے۔'' (جواہر الفقہ  ج 2  ص351 )  
ایک شخص نے ایسی کوئی شے خریدی اور اُس میں انعامی پرچی نکل آئی جبکہ اُس کو پرچی سکیم کا علم تھا اور اگر علم نہ بھی تھا تو اُس نے شے کو اپنی ضرورت سے خریدا تھا انعام کے لالچ میں نہیں خریدا تھا۔ اس صورت میں بھی اُس شخص کو اِس پر چی پر انعام لینا جائز نہیں کیونکہ ایک تو اِس میں ناجائز سکیم کے ساتھ تعاون اور شراکت ہے اور دوسرے نیت تو ایک مخفی چیز ہوتی ہے لہٰذا حکم اِس پر نہیں لگتا بلکہ ظاہر پر لگتا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ جب یہ انعام وصول کررہا ہے تو اِسی کے لیے اُس نے شے خریدی ہوگی ،واﷲ تعالیٰ اعلم۔  
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حدیث 6 1
4 ستر ہزار اُمتیوں کی خصوصی فضیلت : 7 3
5 مسئلہ کی وضاحت : 7 3
6 حضرت خباب نے داغ لگوایا : 7 3
7 حضرت عکاشہ کی سعادت : 8 3
8 حضرت عمار کی فضیلت : 8 3
9 جھانک تانک اور بے اجازت اندر آنا منع ہے : 8 3
10 اگر اجازت نہ ملے تو واپس ہوجانا چاہیے : 9 3
11 اِن کی والدہ کو ابو جہل نے شہید کیا تھا : 9 3
12 بلاوجہ مردوں میں عورتوں کے نام لینا اچھی بات نہیں 9 3
13 بڑوں کی خدمت کا جذبہ : 10 3
14 اَلوَداعی خطاب 11 1
15 نبی علیہ السلام کا حکیمانہ اسلوب : 12 14
16 قریبی رشتہ داروں کو پہلے ڈرانے کی حکمت : 12 14
17 بد کرداری اور بد اخلاقی کی نحوست : 13 14
18 آپ انبیاء کے نائب ہیں مگر اِس پر فخر نہیں کرنا : 15 14
19 اللہ کی حمد کی وجہ : 15 14
20 ہم کیا ہیں ؟ 16 14
21 واقعۂ شہادت ذی النورین سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ 18 1
22 مسئلہ قصاص اور نعرۂ قصاص 18 21
23 (معاویہ بن ابی سُفیان کی طرف سے علی بن ابی طالب کے نام) 19 21
24 رحلت ِ اسعد میاں پر سارا عالم اشکبار 24 1
25 سوانحی خاکہ حضرت مولانا سید اَرشد مدنی زید مجدہم 26 1
26 عربی تعلیم کا آغاز : 26 25
27 بیعت و سلوک : 27 25
28 سلسلۂ تدریس : 27 25
29 تصنیف و تحقیق : 28 25
30 اَشاعت ِ علم اور رفاہی خدمات : 28 25
31 حق بحق دار رَسید 29 25
32 خانوادۂ حامد کو حادثہ 29 25
33 ا صلاح خواتین 30 1
34 حقوق العباد کی اہمیت اور ناحق دُوسروں کا مال لینے کا وبال 30 33
35 خلاصی اور تلافی کا طریقہ: 31 33
36 حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مناقب 33 1
37 نبوی لیل ونہار 38 1
38 (١٠) بازار کے کام میں عار نہ ہونا : 38 37
39 (١١) بارش کا پہلا پانی : 38 37
40 (١٢) خطوط لکھوانے میں عادت : 38 37
41 (١٣) سیدھے و اُلٹے ہاتھ سے کام لینا : 38 37
42 (١٤) خواب پوچھنے کا شوق : 38 37
43 (١٥) گھوڑے سے محبت : 39 37
44 (١٦) آنحضرت ۖ کا شگون نہ لینا : 39 37
45 (١٧) آنحضرت ۖ تفریح فرماتے : 39 37
46 (١٨) آنحضرت ۖ تیرنے کا شوق بھی فرماتے : 39 37
47 تجارتی انعامی سکیموں کا شرعی حکم 40 1
48 انعام صحیح ہونے کی مثال : 42 47
49 -1 پہلی شرط مفقود ہو : 42 47
50 -2دوسری شرط مفقود ہو : 42 47
51 تیسری شرط مفقود ہو : 43 47
52 -4 تینوں شرطیں مفقود ہوں : 43 47
53 تنبیہات : 43 47
54 گلدستہ ٔ احادیث 46 1
55 تین چیزیں جن میں برکت ہے : 46 54
56 تین چیزیں جن کے قبول کرنے سے انکار نہیں کرنا چاہیے : 48 54
57 تین شخص مرفوع القلم ہیں : 48 54
58 دین کے مختلف شعبے 49 1
59 (الف ) اصل ِدین کا تحفظ : 49 58
60 (ب ) راستہ کی رکاوٹوں کو دُور کرنا : 49 58
61 (ج) باطل عقائد و نظریات کی تردید : 50 58
62 (د ) دعوت الی الخیر : 52 58
63 دین کے تمام شعبوں کا مرکز : 53 58
64 موجودہ دَور کا اَلمیہ : 54 58
65 دِل کی بند شریانیں کھولنے کا اکسیر نسخہ .بائی پاس مت کرائیں 56 1
66 نسخہ برائے دفع دمہ، کیرا، نزلہ : 56 65
67 نسخہ برائے دفع چنبل : 57 65
68 بقیہ : الوداعی خطاب 57 14
69 خانقاہ ِحامدیہ اور رمضان المبارک 58 1
70 دینی مسائل 60 1
71 ( نکاح کابیان ) 60 70
72 کفو اور برابری کی اقسام : 60 70
73 (١) نسب میں برابری : 60 70
74 (٣) دینداری میں برابری : 61 70
75 (٤) مال میں برابری : 61 70
76 ) پیشے میں برابری : 62 70
77 متفرق مسائل : 62 70
78 وفیات 63 1
79 اخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter