ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2006 |
¾اكستان Ù |
|
خریدار کے وکیل بن گئے اور وکیل کا تصرف مؤکل کی طرف منسوب ہوتا ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ جب یہ ایک منکر ہے تو اُس وقت ملازموں کے کہنے پر خاموشی دُرست نہیں بلکہ ''نہی '' کرنا واجب ہے۔ -2 کمپنیوں والے جو اِتنے بیش قیمت انعامات دُکانداروں کو دیتے ہیں یہ سرمایہ دارانہ نظام کا طریقہ ہے۔ اصل ہمدردی تو صارف سے ہونی چاہیے کہ اُس کو رعایت ملے ورنہ دُکانداروں کو دیے گئے انعامات کا بوجھ بھی بالآخر صارفین پر پڑے گا کیونکہ عام طور سے انعامات کو بھی اخراجات میں شمار کرکے اشیاء کی قیمت طے کی جاتی ہے۔ -3 بعض اوقات کمپنی والے اپنی مصنوعات کی کسی ایک یا چند ایک پیکنگ میں انعامی پرچی رکھ دیتے ہیں تاکہ لوگ اُس انعام کے لالچ میں زیادہ خریداری کریں۔ چونکہ وہ انعام کسی ایک کا یا چند کا نکلنا ہے اِس لیے ہر خریدارکیلیے اُس انعام کے نکلنے کا وجود خطر واندیشہ کا شکار ہے اور چونکہ جوئے کے معنی میں یہ بات شامل ہوتی ہے اسلیے جو خریدار اِس موہوم انعام کے لالچ میں وہ سامان خریدتا ہے وہ ایک درجہ میں جوا کرتا ہے۔ حضرت مولانا مفتی محمدشفیع صاحب رحمہ اﷲ اِسی کی مثل ایک صورت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ''مختلف قسم کی نمائشوں کے اندر داخلہ کا ٹکٹ ہوتا ہے اور نمائش کے منتظمین یہ اعلان کرتے ہیں کہ جو شخص مثلاً دس روپے کا ٹکٹ یکمشت خریدے گا وہ اپنے اِس ٹکٹ کے ذریعہ عام لوگوں کی طرح نمائش میں بھی داخل ہوسکے گا اور اِن ٹکٹوں پر بذریعہ قرعہ اندازی کچھ انعام مقرر ہوتے ہیں جس کا نمبر نکل آئے اُس کو وہ انعام بھی ملتا ہے۔ یہ صورت صریح قمار سے تو نکل جاتی ہے کیونکہ ٹکٹ خریدنے والے کو اُس ٹکٹ کا معاوضہ بصورت ِداخلہ نمائش مل جاتا ہے۔ لیکن اب مدارنیت پر رہ جاتا ہے جو شخص موہوم انعام کی غرض سے یہ ٹکٹ خریدتا ہے وہ ایک گونہ قمار کا اِرتکاب کررہا ہے۔'' (جواہر الفقہ ج 2 ص351 ) ایک شخص نے ایسی کوئی شے خریدی اور اُس میں انعامی پرچی نکل آئی جبکہ اُس کو پرچی سکیم کا علم تھا اور اگر علم نہ بھی تھا تو اُس نے شے کو اپنی ضرورت سے خریدا تھا انعام کے لالچ میں نہیں خریدا تھا۔ اس صورت میں بھی اُس شخص کو اِس پر چی پر انعام لینا جائز نہیں کیونکہ ایک تو اِس میں ناجائز سکیم کے ساتھ تعاون اور شراکت ہے اور دوسرے نیت تو ایک مخفی چیز ہوتی ہے لہٰذا حکم اِس پر نہیں لگتا بلکہ ظاہر پر لگتا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ جب یہ انعام وصول کررہا ہے تو اِسی کے لیے اُس نے شے خریدی ہوگی ،واﷲ تعالیٰ اعلم۔