ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2003 |
¾اكستان Ù |
|
عن ابی ھریرة قال قال رسول اللّٰہ ۖ واللّٰہ لینزلن ابن مریم حکما عادلا فلیکسرن الصلیب ولیقتلن الخنزیر ولیضعن الجزیة ولیترکن القلاص فلا یسعی علیھا ولتذ ھبن الشحنا ء والتباغض والتحاسد ولید عون الی المال فلا یقبلہ احد۔(مسلم) وفی روایة قال کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم۔ (بخاری ومسلم) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیںرسول اللہ ۖ نے فرمایا ۔اللہ کی قسم عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام )عادل حاکم بن کر (آسمان سے ) اُتریں گے تو صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کر یں گے اور جزیہ کوختم کر دیںگے (کیونکہ سب لوگ مسلمان ہو چکے ہوں گے اور یہی اسلام کا بالکل آخر ی دور ہوگا )اور (مال کی کثرت کی وجہ سے بہت سی ) اُونٹنیاں بے کا ر کھڑی ہوں گی ان سے کام نہ لیا جائے گا (باہمی ) عداوت او ر باہمی بغض و حسد دور ہو جائے گا اور عیسیٰ علیہ السلام لوگوں کو مال لینے کے لیے بلائیں گے مگر ( ہرایک کے پاس پہلے ہی اتنا مال ہوگا کہ مزید مال ) کوئی قبول نہ کرے گا ۔ اور بخاری ومسلم کی ایک روایت میں ہے رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اس وقت تمہارا کیا(ہی قابل رشک ) حال ہوگا جب عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام ) تم میں (آسمان سے )اتریں گے اور تمہارا امام (یعنی مہدی علیہ السلام ) تم ہی میں سے ہوں گے (کہ وہی اس وقت تمام مسلمانوں کے امام وحکمران ہوں گے ۔ان کی وفات کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام پوری اُمت کے امام ہوںگے)۔ عن جابر قال قال رسول اللّٰہ ۖ ........فینزل عیسی ابن مریم فیقول امیرھم تعال صل لنا فیقول لا ان بعضکم علی بعض امراء تکرمة اللّٰہ ھذہ الامة۔ (مسلم) حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ ۖ نے فرمایا ......... عیسٰی بن مریم ( علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے تو مسلمانوں کا امیر (نماز کے وقت ا ن سے )درخواست کرے گا کہ آگے آئیے اور ہمیں نماز پڑھائیے ۔عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے کہ نہیں ۔تم ہی میں سے کچھ دوسروں پر امیر ہیں ۔ یہ اللہ تعالی کی جانب سے اس اُمت کا اکرام ہے (کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اترتے ہی فوراً امارت نہیں سنبھالیں گے بلکہ اول تو نماز بھی جوامام ہوگا اسی کے پیچھے پڑھیں گے اور دوسرے امام مہدی علیہ السلام کے دور حکومت تک امارت بھی اختیار نہ کریں گے)۔ عن عبداللّٰہ بن عمروقال قال رسول اللّٰہ ۖ ینزل عیسی ابن مریم الی الارض فیتزوج ویولدلہ ویمکث خمسا واربعین سنة ثم یموت فیدفن فی قبری فاقوم