ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2003 |
¾اكستان Ù |
|
ساتھ سفر کیا حج کا حجة الوداع جسے کہا جاتا ہے اور اس میں اعلان فرمایا تھا کہ اس میں زیادہ سے زیادہ لوگ شامل ہوں تاکہ اپنے اپنے جومناسک اور عبادتوں کے طریقے جو اسلام نے بتلائے ہیں جو اصلاحات کی ہیں وہ سب سیکھ جائیں توصحابہ کرام زیادہ سے زیادہ تعداد میں شامل ہو گئے جناب رسول اللہ ۖ کے ساتھ حج کرنے کے لیے ۔ زیادہ لوگ ہونے کی حکمت : اس لیے زیادہ لوگ ہوں گے تو مسئلے زیادہ پیش آئیںگے تو سب طرح کے مسائل لوگوں کے علم میں آجائیں گے۔تو رسول اللہ ۖ جب روانہ ہوئے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں موافین لہلال ذی الحجہ ذی الحجہ کا چاند ہونے ہی والا تھا جو ہم روانہ ہوئے ہیں مدینہ منورہ سے اب یہ قافلہ ہے جس میں عورتیں بھی تھیں عورتوں کو بھی آپ نے ساتھ لیا تھا ایک عورت سے دریافت فرمایا کہ تم ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کرتیں ۔انھوں نے کہا کہ ہمارے پاس اُونٹنی تھی اور وہ لے گیا فلاں یعنی میر اشوہر لے گیا ہے تو اب ہمارے پاس سواری کا انتظام نہیں ہے اس لیے میں کچھ معذور سی ہوں تو رسول اللہ ۖ نے فرمایا کہ اچھا پھر ایسے کرنا جب رمضان آئے تو تم عمرہ کرنا۔رمضان میں عمرہ جو ہے اس کا ثواب حج کے برابر ہو جاتا ہے۔تو عورتیں بھی ساتھ تھیں۔اب یہ روانہ ہوئے یہاں سے تو چھبیس تاریخ تھی ذی قعدہ کی جو روانہ ہوئے ہیں اور ارشاد فرماتی ہیں(عائشہ) کہ صبیحة رابعة مھلین تلبیہ کہتے ہوئے چو تھی کی صبح ہم مکہ مکرمہ پہنچے ہیں گویا تین دن وہ ہوئے اور چار دن یہ بس اس سے زیادہ نہیںبنتے تو سات دن میں انھوں نے سفر کیا ہے تین سو میل کا اور اگر شارٹ کٹ سے کیا ہوتو اس سے کچھ کم بن جائے گا تو اس زمانے میں سفر کی رفتار جو تھی وہ کافی تیز (بھی ہوتی ) تھی تو اس میںیہ کہنا کہ اگر وہاں سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے تو کس طرح سے ایک مہینے میںپہنچے تو میں نے عرض کیا کہ واقعات جو ہیں اگر تاریخ دیکھی جائے اور حدیث پڑھی جائے تو اس میں تو یہ ہے کہ چھبیس ذی قعدہ کو روانہ ہور ہے ہیں اور چوتھی ذی الحجہ کو صبح پہنچ گئے مکہ مکرمہ صبیحة رابعة مھلین تلبیہ کہتے ہوئے اور یہ بہت بڑا قافلہ ہے جس میں مردوں کے سوا عورتیں بھی ہیں بچے بھی ہیں (جبکہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا قافلہ اس کے مقابلہ میںبہت ہی مختصر تھا) اسی طرح بدر کے موقع پر میں نے عرض کیا کہ ابو سفیان کو مخبری ہوتی ہے او ر مُخبر اُدھر سے مکہ مکرمہ پہنچتا ہے اب یہ شمال ...........................................................................افسو س کسی وجہ سے درس یہاں تک ٹیپ ہو سکا باقی درس ٹیپ نہ ہو سکا بات اگرچہ مکمل ہو گئی ہے مگر کسی حد تک تشنگی باقی رہ گئی۔ ممکن ہے آئندہ کسی درس میں یہ تشنگی دور ہوجائے۔ ٭ ٭ ٭