ماہنامہ انوار مدینہ لاہور اپریل 2003 |
¾اكستان Ù |
|
جب حضرت معاویہ کا دور آیا تو انہوں نے وہی کیاجو حضرت علی فرماتے تھے : ان کے بعد حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا دو ر آیا تو حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کیا ہے اُ ن سارے لوگوں کو جو قاتلینِ عثمان (کے ساتھ سازش ) میں شامل تھے اور کیا کیا تھا اُن سب کو انھوںنے کسی کو بھی سزا نہیں دی چھوڑدیا ۔ اس وقت تو مطالبہ کر رہے تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہ قاتلینِ عثمان کو ہمارے حوالے کرو وغیرہ لیکن بعد میں جب اُن کا دورِ حکومت آیا تو ان کی سمجھ میں وہی بات آئی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ ان سے انتقام لینا بدلہ لینا یہ ممکن نہیں ہے اور باغیوں کے احکام جدا ہو تے ہیں ۔باغی اگر پورا ایک گروپ ہوگیا ایک جماعت ہوگئی قبیلہ ہوگیا بہت سے قبیلے ہو گئے بہت بڑا ایک علاقہ ہوگیا تو اس سارے علاقے کو ختم کیاجائے یہ تو ہو ہی نہیں سکتا ۔اس سے تو شر کبھی ختم نہیں ہوگا جنگ چھڑ جائے گی اورعداوتیں بڑھیں گی ۔ اصلی قاتل موقع پر ہی مارے گئے تھے : ہاں جو بعینہ قاتلین تھے وہ خود سارے مارے گئے وہیں، ان میں سے کوئی نہیں بچا ۔اب رہے کہ جس گروپ کے وہ تھے ان گروپوں کو بھی مارو ساروں کو تو وہ تو بہت بڑا علاقہ بن جاتا تھا ان سارے علاقے والوں سے لڑو سارے قبیلوں سے لڑو یہ غلط ہے تو جو انھوں نے اپنے دور میں کیا تھا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے بھی وہی کیا اپنے دو ر میں ۔ سفر مؤخر نہ کرنے کی حکیمانہ توجیہہ : حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے یہ دو زمانے دیکھے اپنے باپ کا معاملہ دیکھا او ر جس سے باپ کا مقابلہ تھا اس کے دور میں اٹھارہ یا بیس سال گزار ے یا بائیس سال گزارے انھوںنے بھی یہی کیا تو ان کے ذہن میں اس طرح کی کوئی بات تھی ہی نہیں اور یہ طرزِ حکومت جو یزید کے دور میں اختیار کیا گیا ہے پہلے نہیں تھا حضرت معاویہ نے نہیں کیا اب بعد میں بیٹا آیا ہے ان کا، تو اُسے بھی وہی کرنا چاہیے تھا جو اُس کے والد کرتے تھے ۔اس سے ہٹ کر تشدد اور سختی اور خونریزی اس کی توقع نہیںکی جاسکتی تھی اُس سے ، تو یہ حادثہ پہلا ہی پیش آرہا ہے اس کے بر سرِ اقتدار آنے کے بعد، سب سے پہلا قصہ یہی ہے اس سے پہلے کوئی ہوا ہی نہیں ایسا واقعہ جس پر قیاس کیا جائے کہ یزید جو ہے ایسا ہے کہ بالکل پروا نہیں کرے گا اور اس کے جو حکام ہیں وہ بھی ایسے ہی ہیں کہ وہ کسی کی بھی پروا نہیںکریں گے او ر خونریزی میں بیباک ہوں گے کیونکہ کوئی واقعہ ایساپیش نہیں آیا تھا اس وقت تک، اس لیے یہ لوگ روانہ ہو گئے ۔