ماہنامہ انوار مدینہ لاہور مارچ 2003 |
¾اكستان Ù |
|
پڑھ سکے کیونکہ عصر کے بعد تو نفلیں پڑھنا درست نہیں چاہے گرمی کا موسم ہو یا جاڑے کا ،دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ اگر کسی نے نفل نہ بھی پڑھنے ہوں اس کے لیے بھی اتنی تاخیر کرنا مستحب ہے ۔لیکن اتنی دیر نہ کرے کہ سورج میں زردی آ جائے اور دھوپ کا رنگ بدل جائے۔ مسئلہ : اگر مجبوری ہوتو عصرکی نماز ایک مثل سایہ کے بعد بھی پڑھ سکتا ہے ۔مجبوری کے چند مواقع یہ ہیں : (١) مسجد حرام اور مسجد نبوی میں چونکہ ایک مثل کے بعد عصرکی نماز ہوتی ہے وہاں کی باجماعت نماز کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے۔ (٢) کوئی شخص تبلیغ کے لیے ایسے ملک میں گیا ہو جہاں مثل اول کے بعد عصر کی جماعت ہوتی ہو اور اس شخص نے مسجد میں ٹھہرنا ہو۔ (٣) سفر کرنا ہو اورد و مثل کے بعد نماز کا موقع نہ ملنے کا اندیشہ ہو۔ مسئلہ : مغرب کی نماز میں جلدی کرنا اور سورج ڈوبتے ہی پڑھ لینا مستحب ہے۔ مسئلہ : عشاء کی نماز میں ایک تہائی رات تک تاخیر مستحب ہے اور اس کے بعد آدھی رات تک تاخیر مباح ہے اور آدھی رات کے بعد تک تاخیر مکروہ تحر یمی ہے۔ مسئلہ : جو کوئی تہجد کی نمازپچھلی رات کو اُٹھ کر پڑھا کر تا ہو تو اگر پکا بھروسہ ہو کہ آنکھ ضرور کھلے گی تو اس کو وتر کی نمازتہجد کے بعد پڑھنا بہتر ہے لیکن اگر آنکھ کھلنے کا اعتبار نہ ہو اور سو جانے کا ڈر ہو تو عشاء کے بعد سونے سے پہلے ہی وتر پڑھ لینا چاہیے۔ مسئلہ : مردوں کے لیے مستحب ہے کہ فجر کی نماز ایسے وقت شروع کریں کہ روشنی خوب پھیل جائے اور اس قدر وقت باقی ہو کہ اگر نماز پڑھی جائے اور اس میں چالیس پچاس آیتوں کی تلاوت اچھی طرح کی جائے اوربعد نماز کے اگر کسی وجہ سے نمازکا اعادہ کرنا چاہیں تو اسی طرح چالیس پچاس آیتیںا س میں پڑھ سکیں ۔اور عورتوں کو ہمیشہ اور مردوں کو حالت ِحج میں مزدلفہ میں فجر کی نماز اندھیرے میں پڑھنا مستحب ہے۔ مسئلہ : اگر گھڑی نہ ہو تو ابر کے دن فجر ،ظہر اور مغرب کی نماز ذرا دیر کر کے پڑھنا بہتر ہے اور عصر اور عشاء کی نمازیں جلدی پڑھنا مستحب ہے۔ مسئلہ : جمعہ کی نماز کا بھی وقت وہی ہے جو ظہر کی نماز کا ہے لیکن جمعہ کی نماز ہمیشہ اول وقت پڑھنا سنت ہے جمہور کا یہی قول ہے۔ مسئلہ : عید ین کی نماز کا وقت آفتاب کے اچھی طرح نکل آنے کے بعد شروع ہوتاہے ۔دوپہر سے پہلے تک