ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
کے قلب میں چار چیزیں اللہ پیداکردیتاہے جو اس کے ساتھ ہمیشہ رہتی ہیں۔''غم''جس سے اس کو کبھی چھٹکارا نہیں رہتا ''مشغولیت '' جس سے وہ کبھی فارغ نہیں رہتا،''فقر'' کہ وہ کبھی غنا کو پہنچ ہی نہیں پاتا ''اُمّید '' کہ اس کی کوئی انتہا ہی نہیں ہوتی ہے''۔ (احیا ء العلوم ص ١٧٦ج٢) اہل دنیا کی زندگی کا جائزہ لو اور پھر دیکھو کہ جوچار چیزیں اس حدیث میںبیان کی گئی ہیں کیا ان کی زندگی اورزندگی کے شب وروز اس حدیث کی حقانیت وصداقت کاکھلا اعلان نہیں کر رہے ہیں؟ کیا مال ودولت کی کثرت نے ان کو فکر وغم سے نجات بخش دی ہے؟ کیا ایک ایک پیسہ کے لیے اب بھی وہ تگ ودونہیں کر رہے ہیں ؟کیا ان کی تمنائیں و آروزئیںپوری ہوگئیں سکون و راحت کاکوئی لمحہ انہیں میسر ہے ؟سچ ہے دُنیا میں پڑکر دنیا کے چکر سے نکلنا بڑا دشوار امر ہے یہاں ہر روز ایک نئی خواہش اُبھرتی ہے اور جنم لیتی ہے ۔کتنی بھی انسان کے پاس دولت ہوجائے وہ ایک پیسہ کے لیے ہزارطرح کی مشقت برداشت کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آپ ۖ نے فرمایا : لیس الغنی من کثرة العرض انما الغنی غنی النفس غنا مال کی کثرت کانام نہیں ہے بلکہ اصل غنی نفس کا غنا ہے۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیںکہ میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا ہے جن کے نزدیک دُنیا کی حقیقت مٹی سے زیادہ نہیں تھی۔(احیا العلوم ص١٨٣ ج٢) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ قلب میں جب دُنیا کی محبت اور گناہ کی رغبت پیدا ہوجاتی ہے توقلب متوحش رہتا ہے اس لیے کہ قلب میں خیر کا گزرنہیں ہو پاتا۔(ایضاً) حضرت سلمان فارسی نے حضرت ابو در دائ کولکھا کہ میرے بھائی دُنیا سے بچو دُنیا اتنی نہ جمع کرو کہ تم سے اس کا شکرادا نہ ہوسکے۔ (احیاء العلوم ص٢٠٠ج٢) حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ ایک فرشتہ یہ صدا لگا تا ہے کہ :''تھوڑا مال جو تمہیں کافی ہو وہ اس زیادہ سے بہترہے جو تم کو سرکش بنادے۔'' (احیا العلوم ص٢٠٧ج٢) عبدالواحد بن زید فرماتے ہیں کہ حرص دو طرح کہ ہوتی ہے ۔ایک نافع اور ایک ضار۔''نافع'' تو وہ ہے کہ صفحہ نمبر 30 کی عبارت نسان اللہ کی عبادت اور اس کے احکام کی بجاآوری کا حریص ہے اور'' ضار'' وہ ہے کہ انسان دنیا کا حریص ہو جائے ۔ ( جامع بیان العلم ١ ١٦ ج ١) ان تفصیلات سے معلوم ہوا کہ دُنیا کی حرص اور اس کی محبت اس درجہ پیدا ہوجائے کہ انسان کے دل سے