ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
اكستان |
|
مسئلہ : سانپ کی کینچلی پاک ہے لیکن اس کی کھال جواس کے جسم کے ساتھ لگی ہوتی ہے وہ نجس ہوتی ہے ۔ مسئلہ : نجاست اگر جلائی جائے تو اس کا دھواں پاک ہے اور ا گر جم جائے اور اس سے کوئی چیز بنائی جائے تو وہ بھی پاک ہے۔ مسئلہ : نجاستوں سے جو بخارات اُٹھیں وہ پاک ہیں۔ مسئلہ : پھل وغیرہ کے کیڑے پاک ہیں لیکن ان کا کھانا درست نہیں جب کہ ان میں جان پڑ گئی ہو اور گولر وغیرہ سب پھلوںکے کیڑوں اور سرکہ کے کیڑوں کا بھی یہی حکم ہے۔ ناپاک چیز کا بطور دوا استعمال : مسئلہ : جو چیز نجس العین ہے یعنی خود ناپاک ہے جیسے پاخانہ ،پیشاب ،شراب،مردار(یعنی اس کا گوشت اور چربی وغیرہ )اور خنزیر کا گوشت اور ذبح کیے ہوئے حرام جانور کا گوشت اور چربی وغیرہ تو ایسی چیز کا نہ تو خارجی استعمال درست ہے کہ جسم پر کہیں اس کا لیپ کرے یا ملے اور نہ ہی داخلی استعمال درست ہے کہ اس کو کھائے پیئے۔ اور جو چیز دوسری چیز کے ملانے سے نجس ہوئی ہے اس کا داخلی استعمال درست نہیںالبتہ خارجی استعمال درست ہے جیسے ناپاک پانی یا وہ سرمہ جس میں پتہ کا پانی ( Bile)ملایا گیا ہو جبکہ سرمہ میں دیگر چیزوں کے مقابلے میں یہ پانی کم ہو۔اس استعمال کی صورت میں ہر نماز کے وقت دھونا اور باقاعدہ پاک کرنا ضروری ہے۔ تنبیہہ : ایسی ناپاک چیز کے خارجی استعمال سے بھی پرہیز کرنا زیادہ بہتر ہے کیونکہ بعض اوقات شدت مرض میں خیال نہیں رہتا اور کپڑوں میں بھی یہ نجس دوالگ جاتی ہے یا بغیر دھوئے ہاتھ کسی برتن میں پڑ جاتا ہے اور وہ برتن او ر پانی ناپاک نہیں۔ہاں اگر طبیب حاذق دیندار کی یہ رائے ہو کہ اس مرض کا علاج سوائے شیر کی چربی کے اور کچھ نہیں تو ایسی حالت میں بعض علماء کے نزدیک درست ہے لیکن نماز کے وقت اس کو پاک کرنا ضروری ہے۔ استنجا کا بیان : مسئلہ : جو نجاست آگے یا پیچھے کی راہ سے نکلے ارو نکلنے کی جگہ سے پھیلی نہ ہو تو اس کی وجہ سے استنجا کرنا سنت موکدہ ہے۔ مسئلہ : اگر نجاست بالکل ادر ادھر نہ لگے اور اس لیے پانی سے استنجاء نہ کرے بلکہ پاک پتھر یا ڈھیلے سے استنجا کرلے اور اتنا صاف کر ڈالے کہ نجاست بالکل جاتی رہے تو بھی جائز ہے لیکن یہ بات صفائی مزاج کے خلاف ہے ۔البتہاگر پانی نہ ہو یا کم ہو تو مجبوری ہے ۔ مسئلہ : ڈھیلے سے استنجا کرنے کا کوئی خاص طریقہ نہیں بس اتنا خیال رکھے کہ ادھر ادھر نہ پھیلنے پائیاور بدن خوب صاف ہو جائے۔