ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
گھرارہتاہے، اس سے اس کا اطمینان رخصت ہو جاتا ہے اور اگر کبھی اس کی تجارت فیل ہو گئی یا اس میں نقصان پیدا ہو گیا یا اسے اور کسی مادی خسارے سے دوچار ہونا پڑا تو راتوں کی نیند حرام ہوجاتی ہے اور غم سے نڈھال ہوکر وہ پڑ جاتا ہے ۔یہ دن رات کا مشاہدہ ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا : الدنیا ملعونة وملعون ما فیھا الا ماکان للّٰہ منھا دنیا ملعون او ردنیا کی ہرچیزملعون ہے سوائے اس حصہ کے جو اللہ کے لیے ہو(یعنی جو کام اللہ کے لیے دنیا میں رہ کر کیا جائے وہ تو مقبول ہے اس کے سوا جو کچھ بھی ہے وہ سب خیر سے خالی ہے)۔ دنیا انسان کے لیے امتحان ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو مختلف گل بوٹوں سے سجاکر اوراس میں عیش و تنعم کا ہر طرح کا سامان پیداکر کے اپنے بندہ کو آزمانا چاہتا ہے کہ میرا بندہ دنیا کی ان نمائشی چیزوں کو دیکھ کراو راس میں رہ کرمجھے یاد رکھتاہے یا دنیا کی اس چمک دمک سے خیرہ ہوکر مجھ سے غافل ہو جاتاہے اورمیرے احکام سے آنکھ بند کرکے اور میرے مقرر کردہ ضابطہ ٔحیات سے بے پروا ہوکر زندگی گزارتا ہے ۔اسی بات کو اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے : ان الدنیا حلوة خضرة وان اللّٰہ مستخلفکم فیھا فناظر کیف تعملون دنیا بہترین سرسبز وشاداب جگہ ہے او ر اللہ اس میں تم کو پیدا کرکے دیکھنا چاہتا ہے کہ تم لوگ کیسے عمل کرتے ہو۔ ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا : الدنیا سجن للمؤمنین وجنة للکافرین دنیا مؤمنین کے لیے قید خانہ ہے اورکا فروں کے لیے جنت ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ جس کا ایمان آخرت پر ہوتاہے اور وہ یہ سمجھتاہے کہ یہاں کی زندگی چند روزہ ہے یہ گھر دارِ قرار نہیں دارِ فرار ہے ۔وہ اس دنیا سے اس طرح گھبراتا ہے جس طرح قیدی قید خانہ سے ،قیدی کو قید خانہ میں آرام وراحت کا کتنا بھی سامان مہیا ہو وہ چاہتا ہے کہ جلدازجلد یہاں سے نکلے ۔اسی طرح مومن کی یہ شان ہوتی ہے کہ وہ مطمح نظر دنیا کو نہیں آخرت کو بناتا ہے اور اس گھر میں منتقل ہونے کے لیے بے چین رہتا ہے ۔دنیا کی آرائش وزیبائش اسے بالکل نہیں صفحہ نمبر 29 کی عبارت بھاتی، بخلاف کافر کے کہ وہ دنیا ہی کو دارِ اصلی سمجھتا ہے اس کے پیشِ نظر صرف یہی زندگی رہتی ہے اس لیے وہ یہاں رہ کر اپنے لیے زیادہ سے زیادہ عیش وراحت کا سامان جمع کرتاہے۔ ایک حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کہ : ''جواس حال میں صبح کرے کہ اس کا سب سے بڑا مقصد دُنیا ہی ہو تو اللہ کے یہاں اس کا کوئی مقام نہیں ہوتا ، اوراس