ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
اكستان |
|
کے دن نظر اسکی جزا کے لیے خدا ہی پر ہونی چاہیے اور اگریہ نظر ہو کہ چرچا ہوتو پھر اللہ کے یہاں کی جزا کا وعدہ نہیں ہے ۔ شہید سے بھی سوا ل ہوگا : حتی کہ شہید بھی قیامت کے دن پیش ہو گا تو پوچھا جائیگا کیا کیا تو نے ؟ تو وہ کہے گا کہ میںنے تیری راہ میں جان دی۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے یہ غلط کہتا ہے تو اس لیے لڑا تھا تاکہ تیرا چرچاہو کہ بہت بڑا بہادر ہے لیقال انک جری بہت بڑی جرأت والا شجاع تھا بہادرتھا فقد قیل یہ چرچا وہاں ہوگیا اخبارات میں چھپ گیا نام چل پڑا ، مثال دیتے ہیں لو گ سڑکوں کے نام رکھ دئیے گئے ، تمہارے نام پر کلب کھل گئے تمہارے نام پر اسکول کھل گئے ہسپتال کھل گئے ۔ اسی طرح عالم اس طرح حافظہ اسی طرح قاری، شہید تو وہ ہے کہ جس نے جان ہی دے دی اُس نے کچھ رکھا ہی نہیں وہ تو دُنیا کی ایک سُوئی سے بھی فائدہ نہیں اُٹھا سکا ،اس نے تو دنیا سے بالکل تعلق ہی توڑ لیا مگر اللہ فرمائیں گے کہ نہیں یہ تونے میرے لیے نہیں کیا تھا۔ عیوب کی پردہ پوشی : ارشادفرمایا من ستر مسلما سترہ اللّٰہ یوم القیمة جو آدمی کسی مسلمان کے عیوب پر پردہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے عیوب پرپردہ رکھے گا۔ عیب کا پردہ رکھنا بھی ایک ثواب ہو گیا کہ ایک آدمی کو دیکھا ہے چوری کرتے ہوئے پکڑلیا آپ نے ، ایک دو آدمی مل کر سمجھا دیں کہ آئندہ نہ کرو ایسے ،ہم کسی کو نہیں بتائیں گے کوئی اور کام کرتے ہوئے دیکھا ہے گناہ کا اُس کو روک دیا اور اپنے ہی تک بات رکھی افشا نہیں کیا بدنام نہیں کیا ۔ سوائے انبیا ء کے عیبوں سے کوئی پاک نہیں ہے : تو عیبوں سے خالی تو کوئی بھی نہیںہے صرف انبیاء کرام ہیں جو صغائر کبائر سب سے بچے ہوئے ہیں ورنہ صغائر تو ہو جاتے ہیں صغائر ہی سے بچے ہوئے نہیں ہیں صحابہ کرام سے کبائر بھی ہوگئے۔ صحابہ کی زبردست توبہ : فرق یہ ہے کہ اُنھوں نے توبہ بڑی زبردست کی ہے بعضوں نے ایسی ایسی توبہ کی ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ اگر یہ بانٹ دی جائے سب پر جو مدینہ کے رہنے والے ہیں تو سب (کی مغفرت) کے لیے کافی ہے اور قرآن پاک میں آیا بھی یہی ہے کہ اذا فعلوا فاحشة او ظلموا انفسھم ذکروا اللّٰہ فاستغفروا لذنوبھم اللہ کو یاد کرتے ہیں استغفار کرتے ہیں ومن یغفرالذنوب الا اللّٰہ ولم یصروا علی ما فعلوا وھم یعلمون جب وہ جان جائیں کہ یہ کام بُرا ہے تو پھر اُس پر جمے نہیں رہتے پھر اُس سے ہٹ جاتے ہیں تو جب صحابہ کرام جو سب سے بڑا نمونہ ہمارے لیے ہیں ہمارے بڑوںکے لیے بھی وہی ہیں بڑوں سے