ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
اكستان |
|
بھی دیگر عوامل کے ساتھ ایک سبب یہ ہے کہ آج ڈاکٹر اور قصائی میں کوئی فرق باقی نہیںرہاہے ان ڈاکٹروںسے جھوٹی میڈیکل بنوا کر جس کے خلاف چاہیں کیس درج کروا سکتے ہیں۔ مریض ہسپتالوں میں تڑپتے رہتے ہیں یہ ڈیوٹیوں پر ہی نہیں ہوتے، اگر ہوتے ہیں تو بھی فوری توجہ کے بجائے گھنٹوں بعد مریض کو ٹریٹ مینٹ دیتے ہیں خواہ اس دوران مریض ہلاک ہو جائے۔ بعض ڈاکٹر مخالف مذہب کے زخمیوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں تاکہ وہ ہلاک ہو جائے یا اس کی میڈیکل رپورٹ اس طرح بناتے ہیں تاکہ کوئی کیس نہ بن سکے ۔جرائم پیشہ لوگ جرم کرتے ہیں پھر انہی ڈاکٹروں سے جھوٹے سرٹیفیکیٹ بنواکر عدالت میںپیش کردیتے ہیں کہ وہ اس وقت ہسپتال میں داخل تھے اور عدالت سے باعزت بری ہو جاتے ہیں یہ سب ظلم میں داخل ہے ۔ ظلم کی تعریف اور انجام : ظلم کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ظلم کہتے ہیں ناحق غیر کے حق میں تصرف کرنا یا کسی کے حق سے زیادتی کرنا(موسوعةنظر ة النعیم ج١٠ ص ٤٨٧٢) نبی کریم ۖنے فرمایا : اتقوا دعوة المظلوممظلوم کی بد دعاء سے بچو (مستدرک للحاکم ج١ص٢٩) دوسری جگہ فرمایا : اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات یوم القیامة (مسلم حدیث نمبر ٢٥٧٨ فتح الباری ج٥ ص ٢٤٤٧) اے لوگوظلم کرنے سے باز رہو بیشک ظلم قیامت کے دن اندھیرے کی شکل میںظاہر ہو گا۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے ظلم کے ذریعہ ظلم اور فساد کو کبھی ختم نہیںکیا جا سکتا۔ ہرظلم کے بعد اندھیرا ہے ہر شام کے بعد سویرا ہے جس طرح اندھیرے سے چلنے والا منزل کو نہیں پا سکتا ہے اسی طرح ظلم کے ذریعہ امن محبت اور قانون کی بالا دستی حاصل نہیںہو سکتی ہے۔ لاقانونیت کا حل سیرت طیّبہ میں ہے : صفحہ نمبر 46 کی عبارت اگر ہمارے حکمراں اور سرکاری کا رندے فی الحقیقت ملک سے لسانیت ،فرقہ واریت ،دہشت گری اور لاء اینڈ آڈر کے مسائل کو حل کرنا چاہتے ہیں تو انہیںظلم کے سوتوں کو بند کرنا ہوگا۔ ہر ادارہ اور فرد سے انصاف کا اجراء کرنا ہوگا پولیس مقابلوں کے بجائے اپنی جانب سے رواداری عفوو درگزر کا دروازہ کھولنا ہوگا۔ حکمرانوں کو صلح حدیبیہ اور فتح مکہ کو پیش نظر رکھنا ہو گا ۔ بنی کریم ۖ نے