ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
گھل مل کر زندگی گزارے : اب اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلما ن کو یکسو ہو کر رہنے کی تعلیم نہیں بلکہ تعلیم یہ ہے کہ وہ تمام طرف کی خبر رکھے اورکسی کے کام آئے۔ لوگوں کی پریشانیاں ہیں اُلجھنیں ہیں اُن میں بھی مدد کرے اور یہ نہیں کہ یہ مدد کرنا ایک مسلمان کی (دنیوی) زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے فقط ، نہیں بلکہ اس پرآخرت میں اجر ہے اور یہ بھی نہیں کہ ا پ کسی کی مدد کریں تو بعد میں اُس سے داد چاہیں یا لوگوں سے اپنی تعریف کی طلب ہو کہ لوگ میری تعریف کریں ،دونوں پر نظر نہ رکھونہ یہ توقع رکھو کہ جس کی میں نے مدد کی ہے جس کا میں نے کام کیا ہے یہ میرے کام آئے گا یہ میری تعریف کرے گا یہ میری بھلائی کا بدلہ بھلائی سے دے گا یہ نہیں بلکہ صرف اللہ تعالی کی ذات پر نظر ہو، جزاء دینے والا وہی ہے۔ اسلام کسی کو یہ خیال کرنے سے روکتا ہے کہ تم دوسروں پر نظر رکھو۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم خدا پر نظر رکھو بس اور نظر اللہ پر رکھو گے تو نیکی نیکی رہے گے ورنہ جو چاہوگے وہ مل جائیگا یہاں نیک نامی چاہتے ہو نیک نامی ہو جائیگی اور خدا کے یہاں جو اجر چاہا ہی نہیں تو خدا کے یہاں اجر نہیں ملے گا۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتے ہیں کہ انا اغنی الشرکا ء عن الشرک جیسے کوئی آدمی اپنے ساتھ کسی شریک کو شریک دیکھنا نہیں چاہتا،چاہتا ہے کہ میں ہی مستقل ہو جائوں ،کوئی کاروبار ہے کوئی زمینداری ہے کو ئی اور چیز ہے اُس میں کسی کی شرکت اگر نہ ہو سکے تو وہ چاہتا ہے کہ یہ اچھی بات ہے زیادہ بہتر ہے۔ حکومت ہو حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرنا چاہتا ، چاہتا ہے کہ میں ہی رہوں حاکم تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میںاس سے زیادہ بے نیاز ہوں میں شرک پسند ہی نہیںکرتا ،میں بے نیاز بھی ہوں یعنی یہاں تو انسانوں کو ضرورت پڑتی ہے انسانوں کی چاہے حکمران ہی ہو ایسا وقت آجاتا ہے کہ وہ چھوٹوں کی مددلیتا ہے ۔شاہ ایران جب جانے لگا ہو گا تو اپنے درجے سے نیچے گرا ہوگا اُس نے چاہا ہوگا کہ میںکسی بھی طرح رہوںبلکہ چاہا ہے اُس نے، کہا ہم تمھاری باتیں پوری کئے دیتے ہیں مطالبات پورے کئے دیتے ہیں اسلامی نظام لے آتے ہیں یہاں پرمگر وہ نہیںمانے ان لوگوں نے کہا نہیں نہیں ہمیں کچھ بھی نہیں چاہیے تو تحریک برابر چلتی رہی پھر اس نے بٹھا دیا شاہ پور بختیا ر نہ جانے کس کس کو جو درمیانی آدمی تھے انھوں نے کہا یہ بھی نہیں وہ اپنے نیچے درجہ سے گرتا گیا اپنی جگہ بٹھا گیا ایسا آدمی کہ جب میں آئوں تو وہ میرے لیے جگہ چھوڑ دے اُنھوں نے کہا کہ یہ بھی جائیں اور باقی سب بھی جائیں تو معلوم ہواکہ جو بادشاہ ایسا تھا کہ فوج اُس کی تھی طاقت اُس کی تھی خزانے اُ س کے پاس تھے اسلحہ اُس کے پاس تھا صفحہ نمبر 7 کی عبارت (مگر لا چارشراکت پر تیا ر ہوگیا) حالانکہ وہ اپنے ساتھ شریک کرنے پر راضی ہرگز نہیں تھا لیکن جب اُس کے اُوپر اُفتاد آئی تو شریک کرنے پر راضی ہوگیا مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں نہیں میں بے نیاز ہوں مجھے کبھی ایسی ضرورت نہیں پڑتی کہ میں اپنے ساتھ کسی کو شریک کر لوں اللّٰہ لا الہ الا ہو الحی القیوم لا تأخذہ سنة ولا نوم۔ حی ہے زندہ ہے ،قیوم ہے