ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
ان احادیث و آیات سے معلوم ہوا کہ مال ودولت جس طرح انسان کی راحت و آرام کا باعث ہے اسی طرح جب انسان کی حرص وطمع بڑھ جائے اور دوسروں کے حقوق پاما ل ہونے لگیں اور انسان کی نگاہ میں دنیا اور دنیا کی ٹیپ ٹاپ ہی سب کچھ ہوجائے تو یہی مال اس کے لیے لعنت اور عذاب بن جاتا ہے ۔آنحضور اکرم ۖ نے ایک حدیث میں فرمایا ہے : جب تم دیکھو کہ اللہ کسی کو دنیا دے رہا ہے اور وہ انسان معاصی میں پڑا ہوا ہے تو سمجھ لو کہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل دی گئی ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں فرمایا گیا : چھ چیزیں انسان کے عمل کو ضائع کر دیتی ہیں : (١) مخلوق کے عیوب میںلگنا (٢)دل میںقساوت کا ہونا (٣) دنیا کی محبت میں پڑنا(٤)حیا کاکم ہونا(٥)بڑی اُمّید یں رکھنا (٦)ظلم سے باز رہنا ۔ (جامع الصغیر ص١٩ ج٢) ایک حدیث سے معلوم ہوتاہے کہ دنیا کی حرص و ہوس انسان سے جواں مردی کے اوصاف ختم کر دیتی ہے اور اس کو بزدل بنادیتی ہے ،لوگوں کے دل سے اس کی ہیبت ختم ہو جاتی ہے او ر ایک دوسری حدیث کے الفاظ یہ ہیں : اذا عظمت امتی الدنیا نزعت عنھا ھیبة الاسلام جب میری اُمّت دُنیا کوبڑی چیز سمجھنے لگے گی تو اس سے اسلام کی ہیبت چھین لی جائیگی۔ آج مسلمانوںکی حالت پر غور کرو اور دیکھو کس طرح یہ حدیث اُن پر حرف بحرف صادق آ رہی ہے ۔دُنیا کمانے کی فکر ،مال و متاع اور عیش و تنعم کی خواہش نے ان کو آخرت سے غافل کر دیا ہے ،دنیا کو اس نے سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور اس دنیا کے سامنے اسے آخرت کی زندگی کی کوئی فکر نہیں ہے ،دُنیا کی چمک دمک نے اس کی نگاہ کو خیرہ کر دیاہے اور آج مسلمان اسلامی اخلاق وکردار کو پامال کرتے ہوئے ہرطرح دنیا کما رہاہے، جائز وناجائز اور حلال وحرام کی اسے قطعاً پروا نہیںہے۔لیکن کیامال ودولت کی کثرت کے باوجود بھی انہیں عزت وآبرو کا وہ مقام حاصل ہو سکا جو ایک باغیرت قوم کے لیے باعثِ افتخار ہوا کرتا ہے۔ اسلامی مملکتوں کو دیکھو ان کی زمین سے دولت کا چشمہ ابل رہا ہے عیش و تنعم کے ساے اسباب مہیا ہیں اور ان کا معیار زندگی بلند سے بلند تر ہو گیا ہے لیکن کیا اس زندگی سے ان کی وہ ہیبت وشان بھی باقی ہے جس سے قیصروکسرٰی کے صفحہ نمبر 28 کی عبارت محلات لرزتے تھے ۔کیا آج بھی وہی مسلمان ہیں جن کے نام سے قصر باطل میں زلزلہ پیدا ہوتا تھا، آج تو دولت کی اس ریل پیل کے باوجود آبرو کی زندگی سے بھی اُمّت مسلمہ محروم ہے اور اس کی عظمت ِگزشتہ کا ہلکا سا نشان بھی باقی نظر نہیں آتا۔ دنیا کمانے کا جذبہ جب انسان میں حد سے فزوں ہو جاتا ہے تو اس کا دل ہروقت دنیا کے افکار سے ہی