ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
¾اكستان Ù |
|
حسد وطمع کا عارضہ پیدا ہوتاہے اور ناشکری کے جذبات پرورش پاتے ہیں ۔وہ اپنے مال کو غلط جگہ پر لگاتا ہے اور اپنے سے کم مال والے کو حقیروذلیل سمجھتا ہے، دین وشریعت کا اس کی نگاہ میں کوئی وزن نہیں رہتا۔ غرض جب حرص و آزاس درجہ کو پہنچ جائے اور دُنیا اس درجہ مطلوب ہو جائے کہ شرعی قوانین و اخلاق کی بھی انسان پر وانہ کرے اور انسان اللہ کا بندہ ہونے کے بجائے روپے پیسے کا بندہ بن جائے تو بلا شبہہ ایسے شخص کے لیے کتاب وسنت میں سخت وعید ہے ۔قرآن کا ارشاد ہے : فاما من طغیٰ و اثرالحیوٰ ة الدنیا فان الجحیم ھی المأویٰ جس نے سرکشی کی اور دنیاوی زندگی کو آخرت کی زندگی پر ترجیح دی اس کا ٹھکانا جہنم ہے ۔ سورۂ یونس میں ایک جگہ فرمایا گیا ہے کہ انسان کی اگر یہی خواہش ہے کہ اسے دُنیا حاصل ہو جائے تو اسے دنیا دے دی جاتی ہے مگر ایسے شخص کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے ،فرمایا گیا : جو دُنیا کی زندگی اور اس کی آرائش چاہتا ہے ہم اس کے اعمال کا بدلہ بلا کسی کمی کے دُنیا ہی میں پورا پورا دیتے ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں سوائے آگ کے ،انہوں نے جو کچھ کیا سب اکارت گیا اور وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ باطل ہے۔ ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا : ماھذہ الحیٰوة الدنیا الا متاع الغرور وان الدار الاخرة لھی الحیوان دنیا کی زندگی دراصل دھوکہ کی پونجی ہے اورآخرت کا گھر وہی اصل زندگی ہے ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا : لایغفرنکم الحیٰوة الدنیا ولا یغرنکم باللّٰہ الغرور دنیا کی زندگی تم کو دھوکے میں نہ ڈالے اورنہ شیطان تم کو اللہ کے بارے میں دھوکے میں رکھے۔ یہ دولت کے جمع کرنے والے بیشتر وہ ہوتے ہیں جنہیں نہ دین کی پروا ہوتی ہے اور نہ انسانی اخلاق کی ،وہ اپنے کو ہر قانون سے بری سمجھتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے جو کمایا ہے یہ ان کی عقل ودانش اور سعی وعمل کا فیض ہے وہ اس دولت کو اپنے لیے رحمت سمجھتے ہیں اور ان کے تمرد ،سرکشی اور ناشکری اور کفرانِ نعمت کے باوجود بھی جواُن کے پاس دُنیا صفحہ نمبر 26 کی عبارت سمٹتی آرہی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا خدا ان سے راضی ہے حالانکہ ان کے اس سرکشی اورکفرانِ نعمت کے بعد بھی دنیا نے جو اُن پر اپنا دروازہ کھول دیاہے یہ خدا کا عذاب ہے،یہ فتنہ او رآزمائش ہے جس کا انہیں اپنی غفلت ،بے پروائی