ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2002 |
اكستان |
|
اللّٰھم انا نعوذ بک من الفقروالفاقة والقلة والذ لة۔(جامع بیان العلم ج٢ص١٦) اے اللہ میں تیرے ذریعہ محتاجی اور فقر سے پناہ مانگتاہوں اور مال کی کمی اور ذلت سے پناہ مانگتاہوں ۔ کبھی آپ دُعاء میں کہتے : اللّٰھم انی اسئلک الھدی والتقی والعافیة والغناء اے اللہ میں تجھ سے ہدایت ،پرہیزگاری اور غنا ء کا خواستگار ہوں ایک حدیث میں فرمایا گیا : من رزق الدنیا علی الاخلاص للّٰہ وحدہ وعبادتہ لا شریک لہ واقام الصلٰوة وایتاء الزکٰوة مات واللّٰہ عنہ راض۔ جو شخص اخلا ص اور اللہ کی بلاشرکتِ غیر عبادت اور نماز قائم کرنے اور زکٰوة ادا کرنے کی بنا ء پر رزق عطاء کیا گیا تو اس کا انتقال اس حال میں ہوگا کہ اللہ اس سے راضی رہے گا۔ اور ابو قلابہ فرماتے ہیں : لا تضر کم الدنیا اذا شکر تمو ھا للّٰہ تم نے اگر اللہ کا شکر ادا کیا تو دُنیا تم کو نقصان نہیں پہنچائیگی ۔ غرض نیتِ خالص کے ساتھ ،اللہ کی رضا جوئی کے لیے ،اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے،اہل حاجت کی اعانت ودستگیری کے لیے دُنیا کا حاصل کرنا اور مال ودولت کا جمع کرنا کبھی بھی مذموم نہیں رہا ہے اور نہ شریعت نے اس سے روکاہے بلکہ بسا اوقات نفل عبادتوں پر طلب رزق کا مقدم کرنا ضروری ہوتا ہے۔ اہل و عیا ل کی پرورش انسان کا فریضہ ہے اوراس فریضہ کی ادائیگی نفلی عبادتوں سے کہیں اہم ہے۔ بہرحال اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اسلام دُنیا سے الگ ہو کر زندگی گزارنے کی دعوت نہیں دیتا ہے اور نہ کسب مال اس کے نزدیک فی نفسہ برا عمل ہے ۔بلکہ جو چیز اسلام کی نگاہ میں بُری ہے اور جس کی وجہ سے دُنیا او ر اہل دُنیا کی مذمت کی جاتی ہے وہ دُنیا کا حد سے زیادہ لالچ اور حرص ہے جو انسان کو آخرت سے غافل بنا دیتی ہے اور انسان دُنیا میں پھنس کر صفحہ نمبر 25 کی عبارت پنے پیدا کرنے والے کو بُھلا بیٹھتا ہے ۔آخرت سے اُس کا رشتہ کمزور ہو جاتاہے اسے دن رات صرف پیسہ کمانے اوردولت جمع کرنے کی فکر رہتی ہے خواہ یہ دولت کسی طریقہ سے بھی حاصل ہوتی رہے ۔وہ فرائض و واجبات کا بھی تارک بن جاتاہے مال کی حرص اس کو بے چین اور پراگندہ خاطر بنائے رہتی ہے۔ دوسروں کی دولت کو دیکھ کر اس میں