Deobandi Books

رپورٹس

ن مضامی

11 - 86
لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت
گزشتہ روز (۲۶ فروری) لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت کا موقع ملا۔ ۱۱ بجے باغ جناح کی ’’قائد اعظم لائبریری‘‘ میں ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بحیثیت حکمران‘‘ کے موضوع پر سیرت کانفرنس تھی، جمعیۃ اتحاد علماء پاکستان کے صدر مولانا عبد المالک خان نے صدارت کی جبکہ خطاب کرنے والوں میں راقم الحروف کے علاوہ جنرل (ر) خواجہ ضیاء الدین بٹ، پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف اور جناب محمد تاج شامل تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سالہ دورِ حکومت کے بعض پہلوؤں پر کچھ گزارشات پیش کرنے کی سعادت حاصل ہوئی جن کا خلاصہ چند روز تک نذرِ قارئین کروں گا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ظہر کے بعد ایوان اقبالؒ میں انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے زیر اہتمام سالانہ فتح مباہلہ کانفرنس میں حاضری دی۔ یہ کانفرنس آنجہانی قادیانی سربراہ مرزا بشیر الدین محمود کو سفیر ختم نبوت حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے دیے جانے والے مباہلہ کے چیلنج کی یاد میں ہر سال منعقد ہوتی ہے۔ مولانا چنیوٹیؒ نے مرزا بشیر الدین محمود کو دریائے چناب کے دو پلوں کے درمیان وادی عزیز میں مقررہ تاریخ کو مباہلہ کے لیے آنے کی دعوت دی تھی، وہ مقام مباہلہ پر نہیں آئے، اس کے بعد مولانا چنیوٹیؒ ہر سال اسی مقام پر اسی تاریخ کو اجتماع کر کے مباہلہ کی دعوت دہراتے رہے۔ یہ سلسلہ مرزا ناصر احمد اور مرزا طاہر احمد کے دور میں بھی جاری رہا۔ حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے بعد یہ روایت ان کے فرزند جانشین مولانا محمد الیاس چنیوٹی ایم پی اے نباہ رہے ہیں اور موجودہ قادیانی چیف مرزا مسرور احمد کو ہر سال مباہلہ کی دعوت دے کر اس روایت کو قائم رکھے ہوئے ہیں۔
فتح مباہلہ کانفرنس کے عنوان سے یہ سالانہ اجتماع جس میں مباہلہ کی دعوت دہرائی جاتی ہے سالہا سال تک ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ میں ہوتا رہا، اس سال یہ کانفرنس ایوان اقبالؒ لاہور میں بڑے اہتمام کے ساتھ منعقد کی گئی جس کے لیے انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے کارکنوں نے مولانا قاری محمد رفیق وجھوی اور مولانا قاری شبیر احمد عثمانی کی سرکردگی میں خاصی محنت کی، جبکہ حضرت مولانا عبد الحفیظ مکی، مولانا ڈاکٹر احمد علی سراج، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی، مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا پیر عزیز الرحمن ہزاروی، مولانا مفتی محمد حسن، حافظ حسین احمد، مولانا عبد الخبیر آزاد اور دیگر بہت سے راہ نماؤں کے علاوہ حکومت پنجاب کے اوقاف اور مذہبی امور کے وزیر جناب احسان الدین قریشی نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ کانفرنس کی قراردادوں میں:
او۔آئی۔سی سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ناموس رسالتؐ کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی سطح پر قانون سازی کا مطالبہ کیا جائے اور اس کے لیے منظم محنت کی جائے۔
حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ عقیدہ ختم نبوت اور ملک کے دستور کے خلاف قادیانیوں کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے اور ان کے سدباب کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو دستور کے مطابق قانون سازی کے لیے پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں پیش کیا جائے اور ملک میں نفاذ اسلام کو یقینی بنایا جائے۔
کوئٹہ میں ہزارہ قبائل کے خلاف دہشت گردی، کراچی میں دینی مدارس کے خلاف کاروائیوں، علماء اور کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ اور ملک بھر میں علماء اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے کریک ڈاؤن کی شدید مذمت کرتے ہوے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ کریک ڈاؤن طرز کی رسمی اور روایتی کاروائیوں کا سلسلہ بند کیا جائے اور ملک میں افراتفری اور قتل و قتال کا ماحول پیدا کرنے والی عالمی لابیوں اور علاقائی سازشوں کو بے نقاب کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔
ایک قرارداد میں دینی جماعتوں سے اپیل کی گئی ہے کہ نفاذِ اسلام، پاکستان کے اسلامی نظریاتی تشخص، عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالتؐ کے تحفظ پر یقین رکھنے والے عوام کے ووٹ بینک کو اگلے الیکشن میں تقسیم ہونے سے بچایا جائے اور متحدہ محاذ قائم کر کے یا کم از کم سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر کے سیکولر قوتوں کا مل جل کر مقابلہ کیا جائے، وغیر ذلک۔
راقم الحروف نے بھی مختصر گفتگو کے ذریعہ کانفرنس میں حضرت مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے مشن اور انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کی سرگرمیوں کے ساتھ یکجہتی اور ہم آہنگی کا اظہار کیا۔
اسی روز شام کو نماز مغرب کے بعد جمعیۃ علماء اسلام پاکستان (س) کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الرؤف فاروقی نے مسجد خضراء میں چند احباب کو موجودہ حالات کے حوالہ سے مشاورت کے لیے دعوت دے رکھی تھی، اس میں شرکت کا موقع ملا۔ مجلس احرار کے سیکرٹری جنرل حاجی عبد اللطیف چیمہ، پاکستان شریعت کونسل کے مرکزی راہ نما مولانا قاری جمیل الرحمن اختر، اہل السنۃ والجماعۃ کے راہ نما مولانا شمس الرحمن معاویہ، مولانا عبد الرب امجد، مولانا حافظ ذکاء الرحمن اختر، مولانا محمد عاصم مخدوم اور دیگر حضرات شریک محفل تھے جبکہ مولانا پیر سیف اللہ خالد نے اس مشاورتی نشست کی صدارت کی۔
دینی مدارس کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ، کراچی میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کی ٹارگٹ کلنگ اور ملک بھر میں دیوبندی مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور کارکنوں کی گرفتاریوں کے لیے کریک ڈاؤن خاص طور پر موضوع بحث تھے، شرکاء کا خیال تھا کہ کوئٹہ، کراچی میں بالخصوص اور ملک بھر میں بالعموم لاقانونیت، دہشت گردی اور قتل و قتال کے اصل محرکات عالمی و علاقائی حالات ہیں، اور پاکستان کو غیر مستحکم بنانے کے ایجنڈے پر کام کرنے والی بین الاقوامی اور علاقائی لابیاں ملک کے حالات کو خراب کرنے کے لیے مسلسل سرگرم عمل ہیں، لیکن حکومت ان کو بے نقاب کرنے اور ان کے سد باب کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے مدارس کے خلاف کاروائیوں اور کریک ڈاؤن کے رسمی اور روایتی اقدامات کے ذریعہ وقت گزاری کر رہی ہے۔ اسی طرح سنی شیعہ تنازعہ اور کشمکش کے حقیقی محرکات و اسباب پر توجہ دینے کی بجائے یک طرفہ کاروائیاں جاری ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہوگیا ہے کہ ملک کے دینی و سیاسی راہ نماؤں بالخصوص مذہبی جماعتوں کی قیادتوں پر زور دیا جائے کہ وہ قوم میں حالات کے صحیح تناظر کا شعور بیدار کرنے کو اپنی ترجیحات میں فوقیت دیں اور حالات کی خرابی کے حقیقی محرکات و اسباب کو واضح کرنے کے ساتھ ساتھ حکومت کے روایتی اور رسمی اقدامات سے متاثر ہونے والے علماء کرام اور کارکنوں کو اس زیادتی سے بچانے کے لیے موثر حکمت عملی وضع کریں اور رائے عامہ کو اس کے لیے منظم اور بیدار کرنے کی مہم چلائیں۔
اجلاس میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی گئی ہے کہ سنی شیعہ کشیدگی اور مسلسل بگڑتی ہوئی صورت حال کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینے اور اصلاح احوال کے لیے تجاویز و سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے باقاعدہ ’’عدالتی کمیشن‘‘ قائم کیا جائے اور کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والے اسباب کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اجلاس کے شرکاء کی رائے میں سنی شیعہ کشیدگی کو کنٹرول کے دائرے میں رکھنے کے لیے باقاعدہ عدالتی کمیشن کے ذریعہ صورت حال کے صحیح تناظر اور زمینی حقائق کو منظر عام پر لانا ضروری ہے اور اس سلسلہ میں عدالت عظمیٰ ہی موثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ اس مشاورتی نشست کے بعد شرکاء نے سمن آباد میں برما (میانمار) اراکان کے مظلوم مسلمانوں کی امداد کے لیے مولانا عبد الرؤف فاروقی کی سربراہی میں قائم ہونے والے اراکان ویلفیئر ٹرسٹ کے دفتر میں حاضری دی اور اراکانی مظلوم مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کرتے ہوئے ٹرسٹ کے دفتر کا دُعا کے ساتھ باقاعدہ افتتاح کیا۔
مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۸ فروری ۲۰۱۳ء
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 افغانستان میں طالبان کی حکومت اور برطانیہ کے مسلم دانشور 1 1
3 طالبان کی کامیابی پر دینی حلقوں کا اطمینان 1 2
4 طالبان کی طرف سے اسلام کے نام پر ناقابل قبول اقدامات کا خدشہ 1 2
5 مغربی میڈیا کی جانب سے طالبان کی کردار کشی 1 2
6 چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ ۔ مسلم پرسنل لاء کا تذکرہ 2 1
7 حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ کی یاد میں ایک نشست 3 1
8 روزنامہ پاکستان کے زیر اہتمام خلافت راشدہ کانفرنس ۲۰۰۲ء 4 1
9 تحریک ختم نبوت کے مطالبات 5 1
10 آل پارٹیز ختم نبوت کانفرنس ۲۰۰۲ء 6 1
11 ’’برصغیرمیں مطالعۂ حدیث‘‘ پر ایک علمی سیمینار 7 1
12 بھارت میں غیر سرکاری شرعی عدالتوں کا قیام 8 1
13 وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا کامیاب کنونشن ۲۰۱۵ء 9 1
14 مولانا قاسم نانوتویؒ، مولانا عبد الستار تونسویؒ ۔ الشریعہ اکادمی میں فکری نشستیں 10 1
15 لاہور میں تین مختلف پروگراموں میں شرکت 11 1
16 کراچی کی سرگرمیاں 12 1
17 اسلام زندہ باد کانفرنس ۲۰۱۳ء کا احوال 13 1
18 وفاق المدارس کا مجوزہ عالمی اجتماع ۲۰۱۴ء 14 1
19 نصاب تعلیم کا ایک جائزہ ۔ الشریعہ اکادمی میں سیمینار 15 1
20 کراچی میں مصروفیت کا ایک دن 16 1
21 اسلام آباد میں چند روز 17 1
22 عشرۂ ختم نبوت ۲۰۱۳ء 18 1
23 حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس 19 1
24 سمندری کا سفر 20 1
25 مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی کا دورہ 21 1
26 تبلیغی جماعت کے ساتھ تین دن 22 1
27 تحریک انسداد سود پاکستان 23 1
28 حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس 24 1
29 عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۳ء کی قراردادیں 25 1
30 شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء کا متفقہ اعلامیہ 26 1
31 شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء سے مولانا سید عثمان منصور پوری کے خطابات 27 1
32 شیخ الہند کانفرنس ۲۰۱۳ء سے علماء کرام کے خطابات 28 1
33 شیخ الہند عالمی امن کانفرنس (دیوبند و دہلی) ۲۰۱۳ء 29 1
34 دورۂ بھارت ۲۰۱۳ء کی تاثراتی نشستیں 30 1
35 ربیع الاول ۱۴۳۵ھ کی سرگرمیاں 31 1
36 ڈیرہ غازی خان کا سفر 32 1
37 لاہور اور کراچی کی سرگرمیاں 33 1
38 راولپنڈی میں ایک دن 34 1
39 سودی نظام کے خلاف جدوجہد ۔ دینی راہ نماؤں کا اجلاس 35 1
40 کراچی یونیورسٹی کی سیرت کانفرنس میں شرکت 36 1
41 لاہور کی تقریبات میں شرکت 37 1
42 سودی نظام پر بحث 38 1
43 اجتماعات مدارس 39 1
44 دینی تقریبات میں شرکت 40 1
45 ڈیرہ اسماعیل خان کا سفر 41 1
46 ملکی و قومی مسائل ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس 42 1
47 اسلام آباد اور چارسدہ کی سرگرمیاں 43 1
48 اسلام آباد کے گرد و نواح میں سرگرمیاں 44 1
49 تحریک انسداد سود کا اجلاس 45 1
50 آزاد کشمیر اور راولپنڈی میں ملاقاتیں 46 1
51 موجودہ ملکی صورت حال ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس 47 1
52 سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ ۲۰۱۴ء 48 1
53 مطالعۂ قرآن کانفرنس اسلام آباد ۲۰۱۴ء 49 1
54 مسجل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس 50 1
55 چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم کا دورہ 51 1
56 سنٹر فار پالیسی ریسرچ اینڈ ڈائیلاگ کی سرگرمیوں کا آغاز 52 1
57 سرگودھا، جوہر آباد، قائد آباد، چنیوٹ اور چناب نگر کا سفر 53 1
58 ’’انسداد سود سیمینار‘‘ میں شرکت 54 1
59 قومی ایکشن پلان اور اس کا رد عمل 55 1
60 تحفظ ناموس رسالت ۔ آل پارٹیز کانفرنس لاہور 56 1
61 مجلس علماء اسلام پاکستان کا اجلاس 57 1
62 ششماہی تعطیلات کی سرگرمیاں 58 1
63 چنیوٹ میں تعزیتی ریفرنس 59 1
64 مذہبی رواداری اور علماء کی ذمہ داریاں 60 1
65 دستور پاکستان، تحفظ حرمین ۔ پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس 61 1
66 کراچی میں تین دن 62 1
67 اندرون سندھ کا سفر 63 1
68 ملی و قومی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں 64 1
69 مری میں علمی و فکری نشستیں 65 1
70 یوم دفاع اور یوم تحفظ ختم نبوت کی تقریبات 66 1
71 حالات حاضرہ ۔ ملی مجلس شرعی کا اجلاس 67 1
72 تحریک انسداد سود کا اجلاس 68 1
73 دینی جدوجہد کے لیے مشترکہ پلیٹ فارم 69 1
74 سالانہ تبلیغی اجتماع رائے ونڈ ۲۰۱۵ء 70 1
75 پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس ۔ حالات حاضرہ کا جائزہ 71 1
76 عالمی بین المذاہب کانفرنس اسلام آباد ۲۰۱۵ء 72 1
77 عالمی ختم نبوت کانفرنس جنوبی افریقہ ۲۰۱۵ء 73 1
78 حالات حاضرہ ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں 74 1
79 ممتاز قادریؒ کی پھانسی اور مذہبی طبقات کا رد عمل 75 1
80 تین دن مغربی روٹ پر 76 1
81 ترکی اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر ایک اجلاس 77 1
82 پاکستان شریعت کونسل کا اجلاس 78 1
83 ملی یکجہتی کونسل پاکستان کا سالانہ اجلاس 79 1
84 مذہبی منافرت کا سدباب ۔ قومی علماء و مشائخ کونسل کا اجلاس 80 1
85 تبلیغی سہ روزہ اور حضرت سندھیؒ کی یاد میں ایک مجلس 81 1
86 راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور، نوشہرہ اور چارسدہ کا سفر 82 1
87 انسدادِ سود قومی کنونشن 83 1
88 سودی نظام کا شکنجہ اور ’’عذر لنگ‘‘ 84 1
89 جنوبی پنجاب کا سفر 85 1
90 فضلاء کرام کے چند تربیتی اجتماعات میں شرکت 86 1
Flag Counter