Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور نومبر 2014

اكستان

61 - 65
عمر نے فرمایا  :  سن بخدا  !  اگر تو اِسے مارتا رہتا توہم تیرے اور اِس کے درمیان حائل نہ ہوتے تاوقتیکہ توہی (تھک کر) اِسے چھوڑتا پھر آپ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے فرمایا  '' اَیَا عَمْرُو مَتَی اسْتَعْبَدْ تُّمَّ النَّاسَ وَقَدْ وَلَدَتْہُمْ اُمَّہَاتُہُمْ اَحْرَارًا '' اے عمرو  !  تم نے کب سے لوگوں کو اپنا غلام سمجھنا شروع کردیا حالانکہ اُن کی ماؤں نے تو اُنہیں آزاد جنا تھا، پھر آپ مصری کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کامیابی سے جا اَگر پھر کوئی ایسا قصہ پیش آئے تو مجھے لکھ دینا۔ '' (مناقب اَمیر المومنین       عمر بن الخطاب  ص ٩٨) 
(٤)  فاروقِ اَعظم   کے بے لاگ عدل کا ثمرہ  : 
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں ایسا عدل و اِنصاف قائم فرمایا تھا جس کی نظیر پیش کرنا مشکل ہے، آپ کے دور میں ہر ایک کو اِنصاف ملتا تھا اُس میں شاہ و گدا اور اَمیر وغریب کی کوئی تفریق نہیں تھی، آپ کی اِنصاف پسندی اور مساویانہ روِش سے یہ حالت ہوگئی تھی کہ ہر جگہ اَمن و اَمان قائم ہو گیا تھا، لوگ سکھ اور چین کی زندگی گزارنے لگے تھے۔
 آپ حج کے مو قع پر تمام مقامات کے گورنروں کو بلاتے تھے اور اُنہیں ہدایات دیا کرتے تھے، عوام الناس کے مسائل سنتے تھے اگر کسی کو کوئی شکایت ہوتی تو اُس کا اِزالہ فرماتے تھے۔
 سیّد صباح الدین اِس سلسلہ میںتحریر فرماتے ہیں  : 
''ایک حج کے موقع پر حضرت عمر نے اپنے تمام عاملوں کو طلب کیا جب اُن کے ساتھ اور لوگ بھی جمع ہوگئے تو اُن سے مخاطب ہو کر فرمایا لوگو  !  میں نے اِن عُمَّال (گورنرز)کو تمہاری نگرانی کے لیے بھیجا ہے اِن کو اِس لیے نہیں مقرر کیا ہے کہ تمہارے مال، جان، عزت اور آبرو پر دَست دَرازیاں کریں، اگر تم میں سے کسی پر ظلم ہوا ہو تو وہ کھڑا ہوجائے پورے مجمع میں صرف ایک آدمی کھڑا ہوکر بولا  : 

x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 اس شمارے میں 3 1
3 حرف آغاز 4 1
4 درسِ حدیث 6 1
5 شراب کی خرابی کی عقلی دلیل : 7 4
6 شراب کی مجلس : 7 4
7 اِسلام سے پہلے جانور وں پر سختی : 7 4
8 فوری اور مکمل اِطاعت : 8 4
9 عرب کا عام رواجی مشروب : 8 4
10 حضرت عمر نے نشہ آنے پر حد لگائی : 9 4
11 حضرت علی کے مہمان کا قصہ : 10 4
12 یزید اور شراب ،شراب کہاں سے آئی ؟ : 10 4
13 ایک عربی اور مرچ : 11 4
14 اِمام اَبوحنیفہ کا فتوی : 12 4
15 ''کوفہ'' علمی مرکز : 12 4
16 اَلکحل کی حیثیت : 13 4
17 اِسلام کیا ہے ؟ 15 1
18 آٹھواں سبق : معاشرت کے اَحکام و آداب اور باہمی حقوق 15 17
19 ماں باپ کے حقوق اور اُن کا اَدب : 15 17
20 اَولاد کے حقوق : 17 17
21 میاں بیوی کے حقوق : 18 17
22 عام قرابت داروں کے حقوق : 20 17
23 قصص القرآن للاطفال 21 1
24 پیارے بچوں کے لیے قرآن کے پیارے قصّے 21 23
25 (سامری اور بچھڑے کا قصہ ) 21 23
26 سیرت خُلفا ئے راشد ین 25 1
27 اَمیر المؤمنین حضرت عثمان بن عفّان ذوالنّورین 25 26
28 حضرت عثمان کے فضائل میں چند آیات و اَحادیث : 25 26
29 اَحادیث : 25 26
30 فرقہ واریت کیا ہے ، کیوںہے اور سدباب کیا ہے ؟ 32 1
31 اِزالہ شبہات : 32 30
32 (٢) اگر جدید تحقیق نہیں کر سکتے تو جدید مسائل کیسے حل ہوں گے ؟ 33 30
33 (٣) جناب ! اللہ نے قرآن کو آسان کیا 34 30
34 (٤) کیا اَب کتاب وسنت کے حصہ قانون کا مطالعہ نہ کیا جائے ؟ 35 30
35 (٦) جب کتاب وسنت کے مختلف زبانوں میں تراجم ہو چکے ہیں جیساکہ ہمارے اُردو میں 37 30
36 (٧) اگر خود تحقیق نہ کریں 40 30
37 (٨) مجتہد غیر معصوم تھے اُن سے غلطی ہوسکتی ہے 41 30
38 پھر مسائلِ قطعیہ کی دو قسمیںہیں : 42 30
39 اِسلامی معاشرت 47 1
40 \نکاح کرتے وقت کن باتوں کا خیال رہے ؟ 47 39
41 اِسرافِ بیجا : 47 39
42 حضرت سلمان فارسی کا واقعہ : 48 39
43 بُفے سسٹم : 49 39
44 بے پردگی، تصویر کشی وغیرہ : 50 39
45 اربعین حدیثا فی فضل سورة الاخلاص 52 1
46 فضائل سورۂ اِخلاص 52 45
47 مرض الوفات میں پڑھنے کی فضیلت : 52 45
48 کثرت سے پڑھنے والے کے جنازہ میں فرشتوں کی شرکت : 53 45
49 اللہ تعالیٰ کی محبت کا سبب ہے : 53 45
50 سورۂ اِخلاص کی محبت جنت میں داخلہ کا سبب ہے : 54 45
51 سورہ اِخلاص و سورہ فاتحہ سے شفاء حاصل کرو : 54 45
52 اللہ تعالیٰ کے غصہ کو ٹھنڈا کرتی ہے : 55 45
53 سورۂ اِخلاص کا دم : 55 45
54 سورہ ٔاخلاص کی مستقل تلاوت : 56 45
55 حاصلِ مطالعہ 57 1
56 حضرت عمر کا اَندازِ جہانبانی : 57 55
57 خواجہ عزیز الحسن مجذوب تحریر فرماتے ہیں : 57 55
58 عدل و اِنصاف میں مساوات : 57 55
59 (١) حضرت عمر حضرت زید کی عدالت میں : 58 55
60 (٢) حضرت علی حضرت عمر کی عدالت میں : 58 55
61 (٣) محمد بن عمرو حضرت عمر کی عدالت میں : 59 55
62 (٤) فاروقِ اَعظم کے بے لاگ عدل کا ثمرہ : 61 55
63 (٥) حضرت علی قاضی شریح کی عدالت میں : 62 55
64 اَخبار الجامعہ 64 1
Flag Counter