ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2013 |
اكستان |
|
اِس کے بعد قبیلہ بنو خطم کے ایک شخص کی وفات ہوئی اُنہوں نے بھی کفن پہنانے کے بعد کلام کیا اُنہوں نے کہا ان اخابنی الحارث بن الخزرج صدق ١ ٭ جالیس بن سعد طائی رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ آفتاب وماہتاب میں باہم جنگ ہوئی اور ہر ایک کے ساتھ کچھ ستارے ہیں۔ یہ خواب اُنہوں نے حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ سے بیان کیا آپ نے پوچھا کہ تم کس کے ساتھ تھے ؟اُنہوں نے کہا کہ میں چاند کے ساتھ تھا۔ حضرت فاروقِ اعظم نے فرمایا اَب میں تم کو کسی کام پر مقرر نہ کروں گا، تم تاریک نشانی کے ساتھ تھے چنانچہ یہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے اور اُسی جنگ میں شہید ہوئے۔ ٭ ایک پہاڑ کی کھوہ سے آگ نکلا کرتی تھی اور جہاں تک پہنچتی تھی سب کو جلا کر خاکستر کر دیتی تھی۔ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بھی وہ آگ نمودار ہوئی تو آپ نے حضرت اَبوموسٰی اَشعری رضی اللہ عنہ یا حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جاؤ اُس آگ کو اُسی کھوہ میں داخل کرآؤ چنانچہ وہ گئے اور اُنہوں نے اپنی چادر سے اُس آگ کو ہنکانا شروع کیا یہاں تک کہ وہ کھوہ میں چلی گئی اور پھر کبھی وہ آگ نمودار نہیں ہوئی۔ ٭ ایک مرتبہ ایک عجمی شخص مدینہ منورہ آیا، حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کو وہ تلاش کر رہا تھا کسی نے بتایا کہ وہ کہیں جنگل میں سو رہے ہوں گے چنانچہ وہ جنگل کی طرف گیا، دیکھا کہ آپ زمین پر دُرّہ سر کے نیچے رکھے ہوئے سو رہے ہیں۔ اُس عجمی نے اپنے دِل میں خیال کیا کہ سارے جہاں میں اِسی شخص کی وجہ سے فتنہ برپا ہے، اِس کا قتل کردینا تو بہت آسان ہے، یہ خیال کر کے اُس نے تلوار نکالی فورًا دو شیر نمودار ہوئے اور اُس عجمی کی طرف لپکے ،عجمی فریاد کرنے لگا حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بیدار ہوگئے اُس عجمی نے سارا قصہ آپ سے بیان کیا اور مسلمان ہوگیا۔ ١ بنی حارث بن خزرج کے آدمی ہیں یعنی زید بن خارجہ نے جو کچھ کہا سچ ہے۔