Deobandi Books

ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2013

اكستان

32 - 64
٭  ایک مرتبہ ایک لشکر آپ کا کسی دُور دَراز مقام میں مشغولِ جہاد تھا ایک دِن مدینہ منوہ میں بیٹھے بیٹھے آپ نے فرمایا   یَا لَبَّیْکَاہْکسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا بات ہے،یہاں تک کہ وہ لشکر واپس آیا اور سردارِ لشکر نے فتوحات کا بیان شروع کیا تو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اِن باتوں کو رہنے دو اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو تم نے جبرًا پانی میں بھیجا تھا اُس پر کیا گزری ۔سردارِ لشکر نے کہا اے اَمیر المومنین  !  اللہ کی قسم میں نے اُس کے ساتھ بدی کا اِرادہ نہیں کیاتھا،بات یہ ہوئی کہ ہم لوگ ایک ایسے دریا پر پہنچے جس کی گہرائی کی حدمعلوم نہ تھی کہ اِسے عبورکیا جا سکے لہٰذا میں نے اُس شخص کو برہنہ کیا اور پانی میں بھیجا، ہوا بہت ٹھنڈی تھی، اُس شخص پر ہوا کا اَثر ہو گیا اور اُس نے فریاد کی  وَا عُمَرَاہْ  وَا عُمَرَاہْ  اِس کے بعد وہ شخص سردی کی شدت سے ہلاک ہو گیا، جب لوگوں نے اِس قصے کو سناتو سمجھا کہ اُس دِن کی لبیک اُن کی اِسی مظلوم کے جواب میں تھی۔ 
حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سردارِ لشکر سے فرمایاکہ اگر یہ اَندیشہ نہ ہوتا کہ میرے بعد ایک دَستور قائم ہوجائے گا تو یقینًا میں تیری گردن ماردیتا۔ اچھا جا اُس مقتول کے اہل و عیال کو خون بہا اَدا کر اور اَب کبھی اپنی صورت مجھے نہ دِکھانا، ایک مسلمان کاقتل ہوجانا میرے نزدیک بہت سے کافروں کے قتل سے زیادہ ہے۔ جس روز آپ کی وفات ہوئی،اُس دِن یہ اَشعار ہاتف ِغیبی سے سُنے گئے     
لبیک علی الاسلام من کان باکیا	فقد اوشکو ھلکی وما قدم العہد
وادبرن الدنیا وادبر خیرھا	وقد ملّھا من کان یومن بالوعد	(جاری ہے) 
x
ﻧﻤﺒﺮﻣﻀﻤﻮﻥﺻﻔﺤﮧﻭاﻟﺪ
1 فہرست 1 0
2 حرف آغاز 3 1
3 درس حديث 7 1
4 اِنہوں نے کچھ سوالات کیے ۔ 8 3
5 اِیمان کا اہم ثمرہ : 8 3
6 نفس کی فناء : 9 3
7 ٹھکائی سے ہی جھوٹے نبی کا دماغ درست ہو گیا : 9 3
8 اپنی ''ذات'' کی نفی : 10 3
9 زبان کا عمل اللہ کی یاد : 10 3
10 لوگوں کے ساتھ معاملات ،مثال سے وضاحت : 11 3
11 'بات'' بھی اَمانت ہوتی ہے : 12 3
12 حاکم پر کافر سے اِنصاف بھی فرض ہے : 13 3
13 اِقامت ِدین و جہاد بھی حاکم کا فریضہ ہے : 13 3
14 ہمارے ہاں کے بڑے، ہندوؤں سے ڈریں : 14 3
15 عدل پر مبنی تجارتی پالیسی : 14 3
16 پاکستان میں آئینِ اِسلامی کا نفاذ 17 1
17 اُس کا طریقہ ، اُس کے فوائد 17 16
18 فوائد : 17 16
19 پردہ کے اَحکام 19 1
20 شہوت بالامارِد کی اِبتداء : 19 19
21 شہوت بالامارِد کی قباحت و خباثت 20 19
22 شہوت بالامارِد میں اِبتلاء ِعام : 21 19
23 عشق یا فِسق اور شہوت بالقلب : 21 19
24 لفظ ''لواطت'' کا اِستعمال درست نہیں : 22 19
25 شہوت کی اَقسام 22 19
26 اچھا کھانے اور فضول باتوں کا نشہ : 22 19
27 عشاء کے بعد کی مجلس : 23 19
28 بد نگاہی کا مرض کیسے پیدا ہوتا ہے : 23 19
29 بد نگاہی سے بچنے کی تدبیر : 23 19
30 بدنگاہی چھوڑنے کے لیے آسان علاج : 24 19
31 بد نگاہی میں مبتلا شخص کا آسان علاج : 24 19
32 اِمام اَبو حنیفہ کا تقوی اور اَمردوں سے اِحتیاط : 25 19
33 حضرت تھانوی کی اِحتیاط : 25 19
34 سیرت خُلفَا ئے راشد ین 26 1
35 اَمیر المؤمنین فاروقِ اَعظم عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ 26 34
36 حضرت فاروقِ اَعظم کے مکاشفات وکرامات 26 34
37 اِسلامی اَذکار و دُعائیں 33 1
38 اَحکام و فضائل 33 37
39 رُوحانی زندگی کی بقا واِصلاح : 33 37
40 ذکر و دُعا پر اِطمینانِ قلب کا الٰہی وعدہ : 35 37
41 عالمِ اَسباب میں دُعا : 36 37
42 نظامِ عبادت میں اَذکار اور دُعائیں : 37 37
43 دُعا کے معنٰی : 38 37
44 حقیقت ِدُعا : 39 37
45 دُعا کی اَقسام : 40 37
46 اِنفرادی دُعائیں : 40 37
47 اِجتماعی دُعائیں : 40 37
50 نظامِ اَذکارواَدعیہ کی غایت : 41 37
52 صوفیہ کے اَوراد و اَذکار: 41 37
53 دس کلماتِ اَذکار کاتذکرہ جن کاہرشریعت میں رواج ومعمول رہا : 42 37
54 دُعامانگنے کا سادہ اور آسان طریقہ : 43 37
55 دُعااور تعوذ کی مثال : 43 37
56 تین طریقوں سے دُعاؤں کاآغاز : 44 37
57 لفظ اَللّٰھُمَّ سے دُعائو ں کاآغاز: 45 37
58 دُعا میں حضورِ قلب : 45 37
59 گلدستۂ اَحادیث 47 1
60 وفیات 52 1
61 ماہِ صفرکے اَحکام اور جاہلانہ خیالات 53 1
62 ماہِ صفر کا ''صفر'' نام رکھنے کی وجہ : 53 61
63 ماہِ صفر کے ساتھ ''مظفَّر''لگانے کی وجہ : 53 61
64 ماہِ صفر کے متعلق نحوست کا عقیدہ اور اُس کی تردید : 54 61
65 ماہِ صفر سے متعلق بعض روایات کا تحقیقی جائزہ : 56 61
66 ماہِ صفر کی آخری بدھ کی شرعی حیثیت اوراُس سے متعلق بدعات : 57 61
67 عالمی خبریں 61 1
68 اَخبار الجامعہ 63 1
Flag Counter