ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2013 |
اكستان |
|
٭ ایک مرتبہ ایک لشکر آپ کا کسی دُور دَراز مقام میں مشغولِ جہاد تھا ایک دِن مدینہ منوہ میں بیٹھے بیٹھے آپ نے فرمایا یَا لَبَّیْکَاہْکسی کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا بات ہے،یہاں تک کہ وہ لشکر واپس آیا اور سردارِ لشکر نے فتوحات کا بیان شروع کیا تو حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اِن باتوں کو رہنے دو اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو تم نے جبرًا پانی میں بھیجا تھا اُس پر کیا گزری ۔سردارِ لشکر نے کہا اے اَمیر المومنین ! اللہ کی قسم میں نے اُس کے ساتھ بدی کا اِرادہ نہیں کیاتھا،بات یہ ہوئی کہ ہم لوگ ایک ایسے دریا پر پہنچے جس کی گہرائی کی حدمعلوم نہ تھی کہ اِسے عبورکیا جا سکے لہٰذا میں نے اُس شخص کو برہنہ کیا اور پانی میں بھیجا، ہوا بہت ٹھنڈی تھی، اُس شخص پر ہوا کا اَثر ہو گیا اور اُس نے فریاد کی وَا عُمَرَاہْ وَا عُمَرَاہْ اِس کے بعد وہ شخص سردی کی شدت سے ہلاک ہو گیا، جب لوگوں نے اِس قصے کو سناتو سمجھا کہ اُس دِن کی لبیک اُن کی اِسی مظلوم کے جواب میں تھی۔ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے سردارِ لشکر سے فرمایاکہ اگر یہ اَندیشہ نہ ہوتا کہ میرے بعد ایک دَستور قائم ہوجائے گا تو یقینًا میں تیری گردن ماردیتا۔ اچھا جا اُس مقتول کے اہل و عیال کو خون بہا اَدا کر اور اَب کبھی اپنی صورت مجھے نہ دِکھانا، ایک مسلمان کاقتل ہوجانا میرے نزدیک بہت سے کافروں کے قتل سے زیادہ ہے۔ جس روز آپ کی وفات ہوئی،اُس دِن یہ اَشعار ہاتف ِغیبی سے سُنے گئے لبیک علی الاسلام من کان باکیا فقد اوشکو ھلکی وما قدم العہد وادبرن الدنیا وادبر خیرھا وقد ملّھا من کان یومن بالوعد (جاری ہے)