ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2013 |
اكستان |
|
٭ ایک روز جمعہ کے دِن خطبہ پڑھا اُس میں نبی ۖ اورحضرت اَبوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ذکر کرکے فرمایا میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک مرغ نے میرے تین چونچیں ماریں اور اِس کی تعبیر میں یہی سمجھتا ہوں کہ میری موت اَب قریب ہے۔ ٭ ایک مرتبہ آپ کے زمانے میں زلزلہ آیا ،بار بار زمین ہلتی تھی تو آپ نے اللہ کی حمدو ثنا بیان کی اور ایک دُرّہ زمین پر مارا اور فرمایا کہ اے زمین ساکن ہوجا، کیا میں نے تیرے اُوپر عدل نہیں کیا، اِس کے بعد فورًا زلزلہ موقوف ہوگیا۔ ٭ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں حضرت زیدبن حارثہ کی جب وفات ہوئی اور اُن کو کفن پہنایا گیا تو اُن کے سینے سے گنگناہٹ محسوس ہوئی اِس کے بعد اُنہوں نے کلام کیا ،کہا کہ : احمد احمد فی الکتاب الاول ، صدق صدق ابو بکر الصدیق الضعیف فی نفسہ القوی فی امراللّٰہ فی الکتاب الاول ، صدق صدق عمر بن الخطاب القوی الامین فی الکتاب الاول ، صدق صدق عثمان بن عفان علی منھاجھم مضت اربع و بقیت سنتان اتت الفتنة وکل الشدید الضعیف وقامت الساعة وسیاتیکم خبر بیرا اریس وما بیر اریس۔ '' اَحمد اَحمد ۖ اَگلی کتاب میں سچے ہیں، اَبوبکر صدیق جو اپنے کاموں میں کمزور اور اللہ کے کام میں طاقتور ہیں اَگلی کتاب میں سچے ہیں۔ عمر بن خطاب جو بڑے طاقتور اور اَمانت دار ہیں اَگلی کتاب میں سچے ہیں۔ عثمان بن عفان اِن ہی تینوں کی روِش پر ہیں چار سال گزر چکے ہیں دو باقی ہیں ،فتنے قریب آگئے اور طاقتور نے کمزور کو کھالیا، قیامت قائم ہو گئی اور عنقریب تمہارے پاس اَریس نامی کنویں کی خبر آئے گی اور وہ بڑی خبر ہے (اِس کنویں میں حضرت عثمان کے ہاتھ سے اُنگشتری رسولِ خدا ۖ کی گر گئی تھی)۔''