ماہنامہ انوار مدینہ لاہور دسمبر 2013 |
اكستان |
|
سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ قیامت قریب آگئی ہے اور اِسی قسم کی چند باتیں کر کے وہ نظر سے غائب ہوگئے پھر ہر چند تلاش کیا گیا، کچھ پتہ نہ چلا۔ ٭ ایک روز خواب سے بیدار ہو کر حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اِس وقت میں اُس شخص کو دیکھ رہا تھا جو عمر بن خطاب کی نسل سے ہوگا اور عمر بن خطاب کی روِش اِختیار کرے گا، یہ اِشارہ عمر بن عبدالعزیز کی طرف تھا وہ آپ کے صاحبزادے حضرت عاصم کے نواسے ہیں۔ ٭ ایک روز حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے خواب میں دیکھا کہ فجر کی نمازمیں نے رسولِ خدا ۖ کے پیچھے پڑھی اور آپ محراب سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے ایک عورت ایک طبق چھواروں کا لائی اور رسولِ خدا ۖ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے ایک چھوارا اُس میں سے لے کر میرے منہ میں رکھ دیا اور پھر دُوسرا چھوارااُٹھا کر میرے منہ میں رکھ دیا اِس کے بعد میری آنکھ کھل گئی اور دِل میں رسول اللہ ۖ کی زیارت کا شوق تھا اور زبان پر اُن چھواروں کی حلاوت باقی تھی، اِس کے بعد میں وضو کر کے مسجد گیا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی اور بالکل اِسی طرح محراب سے تکیہ لگا کر بیٹھ گئے میں نے اِرادہ کیا کہ اپنا خواب بیان کروں لیکن قبل اِس کے کہ میں کچھ بولوں ایک عورت آئی اور اُس کے ہاتھ میں ایک طبق کھجوروں کا تھا وہ مسجد کے دروازے پر کھڑی ہوگئی اور وہ طبق حضرت عمر کے سامنے لا کر رکھا گیا، اُنہوں نے اِسی طرح دو چھوارے یکے بعد دیگرے میرے منہ رکھے اور باقی دُوسرے صحابہ کرام کو تقسیم کردیے ،میرا دِل چاہتا تھا کہ مجھے اور دیں تو فرمایا کہ اے بھائی اگر رسولِ خدا ۖ نے رات کو تمہیں اِس سے زیادہ دیے ہوتے تو میں بھی زیادہ دیتا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ مجھے تعجب ہوا کہ جو خواب میں نے رات کو دیکھا تھا وہ سب اِن کو معلوم تھا۔ تو فرمایا اے علی ! مومن نورِ اِیمان سے دیکھ لیتا ہے۔ میں نے کہااے اَمیر المومنین آپ سچ کہتے ہیں، میں نے ایسا ہی خواب دیکھاتھا اور آپ کے ہاتھ سے بھی چھواروں کی وہی لذت پائی جو رسولِ خدا ۖ کے دست ِمبارک سے ملی تھی۔