بکرؓ سے آکر کہا کہ تمہارے دوست یعنی حضرت محمدﷺ یہ کہتے ہیں۔ صدیق نے کہا اگر آپ نے یہ فرمایا ہے تو سچ ہے۔ جب ابو جہل نے سنا کہنے لگا آپ قوم کے سامنے بھی ایسا کہہ سکتے ہیں۔ فرمایا۔ ہاں وہ پکارا اور لوگ جمع ہوئے۔ آپ نے تمام ماجرا بیان کیا۔ لوگ متحیر تھے اور انکار کرتے تھے۔ پھر کہا اگر سچ ہے تو آپ بیت المقدس کے مقامات بیان فرمائیے۔ آپ کو بیان میں کچھ شبہ ہوا تھا کہ جبرائیل نے بیت المقدس سامنے اور نزدیک کردیا۔ آپ نے ذرا ذرا بیان فرمایا کہا۔ ابن کثیرنے کہ ابو سفیان نے (قبل اسلام) کے ہر قل شاہ روم سے قصہ معراج اس غرض سے بیان کیا تھا کہ وہ آپ کو دروغ گو جانے ایلیا کا سردار قیصر روم کے پاس تھا۔ بولا میں اس رات کو جانتا تھا۔ قیصر نے کہا کیا۔ کیا اس رات میں نے مسجد کے دروازہ بند کرلئے تھے۔ صرف ایک در کھلا تھا۔ میں نے معہ اپنے ملازموں کے بہت سعی کی کہ بند کروں۔
وہ دروازہ بند نہ ہوسکا۔ پھر نجاروں کو بلوایا اور بولے کچھ ہو۔ یہ نہ ہلے گا۔ بمجبوری وہ دروازہ کھلا چھوڑا۔ صبح کو آکر دیکھا تو پتھر جس میں سواریاں انبیاء کی باندھی جاتی تھیں۔ سوراخ دار ہے اور کسی جانور باندھنے کا نشان موجود ہے۔ میں نے کہا کوئی پیغمبر رات کو یہاں آیا اور نماز پڑھی۔ فائدہ: ہم نے نہایت مختصر بیان کیا اور بہت کچھ ترک کردیا اور اکثر حالات مافوق السماء اور بعض احکام متعلقہ روایت وغیرہ اس لیء چھوڑ دئیے کہ وہ بااہتمام سورہ نجم میں مذکور ہیں۔
کیا اے صاحبو! اب بھی یقین معراج میں کوئی وسوسہ باقی ہے؟ دیکھئے اس وقت بھی جب کیفیت معراج رسول اﷲﷺ نے بیان فرمائی تھی۔ کچھ لوگ منکر اور مشکوک ہوئے اور کہا کہ یہ بہک گئے اور بے راہ ہوئے ہیں۔ تب اﷲ تعالیٰ نے کیفیت معراج اور بیان رسول اﷲﷺ کی تصدیق اپنے کلام میں یوں فرمائی۔ پس ایمان والوں کا فوراً یقین کامل ہوگیا۔ جس سے مجوزہ کشف مرزا قادیانی کی ساری بنیاد ہی اکھڑ گئی۔ وہ سورہ النجم ہے:
قولہ تعالیٰ: ’’والنجم اذا ہویٰ ما ضل صاحبکم وما غویٰ وما ینطق عن الہویٰ ان ہوالا وحی یوحیٰ علمہ شدید القوی ذومرہ۔ فاستویٰ وہو بالافق الاعلیٰ ثم دنیٰ فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ فاوحیٰ الیٰ عبدہ مآ اوحیٰ ما کذب الفوأدما رائی۔ افتمرونہ علی ما یریٰ ولقد راہ نزلۃ اخریٰ عند سدرۃ المنتہیٰ عندہا جنتۃ الماویٰ اذ یغشیٰ السدرۃ ما یغشیٰ ما زاغ البصر وما طغیٰ لقدرای من آیات ربہ الکبریٰ (نجم:۱تا۱۸)‘‘
{قسم ہے تاریکی کی جب گرے۔ بہکا نہیں تمہارارفیق اور بے راہ نہیں چلا اور نہیں بولتا اپنے چائو سے یہ تو حکم ہے۔ جو ہوتا ہے اس کو سکھایا سخت قوت والے۔ زور آور نے پھر سیدھا