بیٹھا اور تھا وہ اونچے کنارے آسمان کے پھر نزدیک ہوا اور لٹک آیا۔ پھر رہ گیا فرق دو کمان میانہ یا اس سے بھی تھوڑا۔ پھر حکم بھیجا اﷲ نے اپنے بندہ پر جو بھیجا جھوٹ نہ دیکھا۔ اس نے جو دیکھا۔ اب تم کیا اس سے جھگڑتے ہو۔ اس پر جو اس نے دیکھا اور اس کو اس نے دیکھا ہے ایک دوسرے اتار میں پر بے حد کی بیرے پاس اس پاس ہے۔ بہشت رہنے کی جب چھارہا تھا۔ اس بیری پر جو کچھ چھا رہا تھا بہکی نہیں نگاہ اور حد سے نہیں بڑی۔ بے شک دیکھے اپنے رب کے بڑے نمونے۔}
اے ناظرین حق پسند اس ارشاد خداوندی کے ہر ہر لفظ پر غور فرمائیے کہ کیسے کیسے نکات دقیق ومقامات تحقیق پائے جاتے ہیں کہ کیفیت معراج جو رسول اﷲﷺ نے فرمائی۔ کشفی یا خوابی وغیرہ سے ہے۔ یا اصل معراج روحی معہ جسم ہے۔ کیفیت کشفی وخوابی سے تو اس زمانہ کے لوگ واقف تھے۔ پھر ایسے واقعہ سے شکوک وتعجب ہونا کیونکر ہوسکتا ہے اور زمانہ مابعد میں غوث قطب اوتادو اولیائوں کو بھی کشف ہوتا ہے۔ تو اس میں اور اس میں فوقیت ہی کیا نکلی۔
جس کی اﷲ تعالیٰ بتفصیل ایسی عظمت اور اپنی شہادت فرماتا ہے کہ تمہارا رفیق (یعنی محمدﷺ) نہ بہکا نہ بھولا نہ راہ سے بے راہ ہوا۔ نہ پھرا یعنی ہماری دکھائی ہوئی راہ پر کمال احتیاط واستقامت سے رفتار کی کہ قدم ادھر ادھر نہ پڑا۔ سیدھا براہ راست منزل مقصود پر پہنچا۔ عجب امر ہے کہ پیغمبر تمہاری جنس سے ہوا اور عصمت کا کلام تک وحی قرار پائے اور تم جہل وانکار میں رہو اور یہ کہ وہ اپنی خواہش سے نہیں بیان کرتا ہے۔ بلکہ وحی جو سکھایا۔
سخت قوت والے زور آور نے وہی بیان کرتا ہے۔ (اس سے ہم کلامی ثابت ہے) جو ہم کلامی حضرت کلیم سے بالائے فوق ہے اور یہ فرمانا۔ سیدھا بیٹھا اور تھا اونچے کنارہ آسمان کے۔ سبحان اﷲ کیا صاف قیام کی جگہ بھی بتائی۔
کیوں صاحبو یہ حالت کشفی ہے۔ یہ نہ فرمایا کہ وہ زمین پر بیٹھا تھا۔ یا خواب راحت میں تھا۔ وہیں یہ کیفیت منکشف کرائی اور پھر کیا خوب فرمایا ہے کہ نزدیک ہوا اور لٹک آیا اور رہ گیا فرق دو کمان میانہ یا اس سے بھی تھوڑا۔
ابن کثیر
سبب ہے دنو کا یعنی لٹک آئے تو نزدیک ہوگئے اور کہا گیا نزدیک ہوا۔ اﷲ تو پیغمبر مقام عبودیت وسجود میں جھک گئے۔ اے یارو اب تو سچ بول اٹھو یہ کیفیت معراج جسمی ہے۔ یا کشف وخوابی۔ ذرا چشم حیا کو اٹھا کر فرمائو تو سہی یہ کیا ہے؟