علیہم السلام آپ نے سلام کیا ادھر بتعظیم ومحبت جواب پایا۔ جب آپ حضرت موسیٰ کے پاس سے چلے تو دیکھا کہ آپ روتے ہیں کہا گیا کہ اے موسیٰ تم کو کس نے رولایا۔ بولے میرے بعد ایک لڑکا پیغمبر ہوگا۔ جس کی امت میری امت سے زیادہ داخل جنت ہوگی۔
ابن کثیر
حضرت موسیٰ علیہ السلام کہتے تھے کہ لوگ جانتے ہیں کہ میں اﷲ کے پاس اکرم الناس ہوں۔ حالانکہ آپ مجھ سے زیادہ اﷲ کے حضور میں کریم ہیں اور حضرت ابراہیم کو دیکھا کہ بیت نماز پڑھی اور باہر آیا۔ ۷۰ ہزار فرشتے روز بیت المعمور کا طواف کرتے ہیں۔ جن کی پھر کبھی باری نہ آئے گی۔
بخاری
یہاں ایک جام شراب دوسرا قدح شیر تیسرا پیالہ شہد لایا گیا۔ میں نے دودھ پیا۔ جبرائیل نے کہا آپ نے فطرت یعنی اسلام اختیار کیا۔ پھر مجھ پر پچاس وقت کی نماز روزانہ فرض ہوئی۔ جب میں واپس آیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا۔ میں نے بنی اسرائیل کو جو قوی اور توانا تھے۔ آزمایا ان سے نہ ہوسکا۔ آپ تخفیف کی درخواست کریں۔ حضور نے رجوع فرمائی۔ دس وقت کم ہوگئے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کہا۔ بار بار آپ رجوع فرماتے اور دس دس کی تخفیف ہوتی۔ پانچ وقت کی رہ گئی تب آپ نے کہا مجھے شرم آتی ہے۔ اپنے پروردگار سے کہ بار بار عذر کروں۔ میں مطیع وراضی ہوں۔ پھر ندا آئی۔ میں نے اپنا فرض ثابت کردیا اور اپنے بندوں سے تخفیف کی اور آپ نے سدرۃ المنتہیٰ کو دیکھا۔ جس کے ورق مثل گوش فیل اور پہل مثل خم تھے اور نور چھایا تھا۔ یہاں چار نہریں تھیں۔ دو باطنی جو جنت میں گئی ہیں اور دو ظاہری جو دنیا میں ہیں۔ یعنی نیل وفرات۔
ابن کثیر
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ صبح کو آپ نے یہ قصہ بیان کیا۔ کفار ہنسنے لگے اور ابو بکرؓ سے آکر کہا کہ تمہارے دوست یعنی حضرت محمدﷺ یہ کہتے ہیں۔ صدیق نے کہا اگر آپ نے یہ فرمایا ہے تو سچ ہے۔ جب ابو جہل نے سنا کہنے لگا آپ قوم کے سامنے بھی ایسا کہہ سکتے ہیں۔ فرمایا۔ ہاں وہ پکارا اور لوگ جمع ہوئے۔ آپ نے تمام ماجرا بیان کیا۔ لوگ متحیر تھے اور انکار کرتے