تھی۔اور ایک مخلوق نے مجھ پر سلام کیا۔ جبرائیل نے کہا ان کا جواب دیجئے۔ پھر دوسرا گروہ ملا۔ پھر تیسرا اور ان کے سلام کی بھی اجازت ملی۔ پھر پانی اور دودھ اور شراب الگ الگ ظرف میں پیش کی گئی۔ میں نے دودھ پی لیا۔ تو جبرائیل نے کہا آپ نے فطرت یعنی اسلام کو پالیا۔ اگر پانی پیتے تو آپ بھی ڈوبتے اور آپ کی امت بھی اور شراب پیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی۔
پھر کہا وہ پیر زال دنیا تھی۔ یعنی عمر اس کی اسی قدر باقی ہے اور یہ مائل بلانے والا شیطان لعین تھا اور مجھے راہ میں تین جگہ نماز پڑھوائی۔ نمبر ۱ … مدینہ میں اور کہا یہ مدینہ آپ کی ہجرت کی جگہ ہے۔ نمبر۲… طور سینا پر اور کہا یہ مقام کلام موسیٰ علیہ السلام ہے۔ نمبر۳… بیت اللحم میں اور کہا یہ مولد عیسیٰ بن مریم ہے۔ پھر بیت المقدس میں میرا براق اس پتھر سے باندھا جہاں انبیاء کی سواریاں بندھا کرتی تھیں اور اذان کہی گئی۔ جبرائیل نے مجھے امام کیا۔ سب نے نماز میرے پیچھے پڑھی اور کہا جبرائیل نے آپ کے مقتدی انبیاء علیہم السلام تھے۔ جامی:
دران مسجد امام انبیاء شد
صف پیشیناں را پیشواشد
بخاری
پھر آسمان اوّل پر گئے اور دروازہ کھلوایا۔ داروغہ آسمان نے پوچھا۔ کون ہے؟ جبرائیل نے کہا میں۔ اس نے کہا تمہارے ساتھ کون ہیں؟ جبرائیل نے کہا محمدﷺ۔ فرشتے نے کہا کیا تم ان کے طرف بھیجے گئے تھے۔ جبرائیل نے کہا ہاں!۔ تب دروازہ کھولا اور کہا مرحبا کیا اچھا آنا۔ آئیے اسی طرح ہر آسمان پر سوال وجواب ہوا۔
لطیفہ
اس سے اشارہ ہے کہ ترقی مدارس باطنی وطے مقامات معرفت کے لئے ہر جگہ روک ٹوک اور رہبر لازم ہے۔
بخاری
آسمان اول پر حضرت آدم علیہ السلام سے اور دوم پر عیسیٰ ویحییٰ علیہم السلام سے۔ آسمان سوم پر یوسف علیہ السلام سے۔ چوتھے آسمان پر ادریس علیہ السلام سے اور پانچویں پر ہارون علیہ السلام سے۔ چھٹے پر موسیٰ علیہ السلام سے۔ ساتویں پر ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔