منکر اسکا فاسق شرح عقائد کہا گیا آپ جنت تک گئے اور کہا گیا۔ عرش تک اور کہا گیا فوق العرش گئے اور ثابت ہے کہ یہ سیر عالم بیداری میں ہوئی اور جسم شریف سے آپ گئے۔ گو اس میں کچھ کلام ہوئے ہیں۔ مگر قول متفق علیہ وروایت مقبول یہی ہے۔ اس کا خلاف خلاف پر ہے۔
فائدہ: ہم ان دلائل سے جو اس مقام پر ہیں۔ قطع کرکے ایک بات کہتے ہیں۔ جو غالباً مان ہی لی جائے:
نمبر۱… منطوق آیت میں اگر کوئی تاویل وتکلف (جس کی ضرورت ہی نہیں) نہ کرو یہ سیر جسم بیداری سے متعلق سمجھی جائے گی۔ نہ خواب وکشف۔
نمبر۲… اگر خواب میں ایسا ہوتا تو کوئی فخروتعجب کی بات نہ تھی۔ اس قدر نہ سہی۔ قریب قریب اس کے اولیائے امت کو بھی نظر آیا کرتا ہے اور اگر جسم شریف نہ جاتا تو بھی کوئی عجیب اور بڑی مدح کا امر نہ تھا۔
قصہ معراج
صحیح بخاری کی حدیث پوری اور تفسیر ابن کثیر کی متعدد حدیثوں کا خلاصہ یکجا کرکے ایک مسلسل بیان مختصراً لکھا جاتا ہے۔
بخاری
آپ نے فرمایا میں حطیم میں تھا اور بسا اوقات کہا کہ سنگ اسود کے پاس لیٹا تھا۔ آنے والا آیا (یعنی حضرت جبرائیل) اور میرا سینہ چاک کیا اور سونے کے طشت میں جو ایمان سے بھرا تھا۔ دھوکر پھر ویسا ہی
جب چلے تو راہ میں ایک پیر زال ملی اور ایک شے میری طرف مائل مجھے پکارتی