حولہ
گرد بیت المقدس اور وہ سرزمین شام ہے۔ من خواہ ابتدائیہ ہے۔ خواہ بیانیہ ہے اورتبعیفیہ سمجھا جائے۔ جیسا کہ ظاہر ومتبادر ہے۔ تو دلیل ہے۔ اس کی جمیع آیات الٰہی کا احاطہ ومعائنہ کسی مخلوق کے اختیار میں نہیں۔ نکتہ اس بعضیت سے منظور یہ ہے کہ آتش عشق بھڑکے۔ اب وصال معشوق روغن کی طرح سوزش دل کو بڑھائے۔ یعنی اے حبیب کریم ہمارے جمال جہان آرأوحسن جان بخش کی صرف شعاع تھی۔ جو جلوہ گر ہوئی۔ طلب میں قصور حاضر پر کفایت سزا وار نہیں۔ شعر :
اے برادر بے نہایت درگہیست
انچہ بروئے میرسی بروبے مائیست
آیات
جمع آیت۔ آثار ونشانی۔ حضرت خلیل کے لئے فرمایا کہ ملکوت سموات دکھائے اور آپ کے لئے کہا۔ ہماری ذات کی نشانیاں دیکھو اور ظاہر ہے۔ فرق درمیان ملکو ت آسمانی وملکوت حضرت سبحانی کے سمیع یعنی سنتے ہیں۔ خفی وجلی کو آپ کی نظر
یعنی جانتے ہیں تمام مصالح تمام اور تمام کان وما یکون پس بلا لیا۔ آپ کو اس مقام پر جس کے سزا وار تھے۔ یا جس کی تمنا پاک دلوں اور نورانی جانوں میں تھی۔
احمدی
کہا اہل سنت نے کہ آپ کا بیت المقدس تک تشریف لے جانا ۔ قطعی ہے منکر اس کا کافر ہے اور وہاں سے آسمانوں پر جانا اخبار مشہور تک تشریف لے جانا۔ قطعی ہے۔ منکر اس کا کافر ہے اور وہاں سے آسمانوں پر جانا اخبار مشہور میں مذکور اور سورہ نجم سے مستفاد۔ پس منکر اس کا مبتدع، اہل ضلال وعناد ہے اور بہشت ودوزخ کی سیر اور دوسرے عجائبات کا معائنہ اخبار احاد میں آیا ہے۔