ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2007 |
¾اكستان Ù |
|
سے ایک کہے کہ میں زندگی بھر تمہارے ساتھ ہوں لیکن جب تم مرجائوگے تو میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں رہے گا، یہ دوست اُس کا مال ہے ۔دوسرا یہ کہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن جب تم مرنے کے بعد اپنی قبر میں پہنچ جائو گے تو میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں رہے گا،یہ دوست اُس کی اَولاد ہے۔ تیسرا یہ کہے کہ میں زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اور مرنے کے بعد بھی ساتھ رہوں گا، یہ دوست اُس کا عمل ہے۔ ف : حدیث شریف میں حضورِ اکرم ۖ نے انسان کے مال و اعمال کی مثال تین دوستوں سے دی ہے جن میں سے ایک تو صرف زندگی تک ساتھ رہنے کا کہتا ہے، دُوسرا مرنے کے بعد قبر تک جانے کی بات کرتاہے اور تیسرا دُنیا اور آخرت دونوں میں ساتھ رہنے کی بات کرتا ہے۔ پہلا مال ہے، دُوسرا اَولاد ہے اور تیسرا عمل ہے۔ اَب انسان کو خود غور کرلینا چاہیے کہ اِن میں سے کونسا دوست سچا اور وفادار ہے اور کس کی دوستی دُنیا و آخرت میں فائدہ مند ہے؟ جو شخص بھی غور کرے گا وہ ضرور اِس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ایمان و عمل صالح سے بہتر دوست کوئی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اِنسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو ایمان اورعمل ِصالح سے آراستہ کرے تاکہ اُس کی دُنیاو آخرت دونوں سنور جائیں۔ سے ایک کہے کہ میں زندگی بھر تمہارے ساتھ ہوں لیکن جب تم مرجائوگے تو میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں رہے گا، یہ دوست اُس کا مال ہے ۔دوسرا یہ کہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں لیکن جب تم مرنے کے بعد اپنی قبر میں پہنچ جائو گے تو میرا تمہارا کوئی تعلق نہیں رہے گا،یہ دوست اُس کی اَولاد ہے۔ تیسرا یہ کہے کہ میں زندگی میں بھی تمہارے ساتھ ہوں اور مرنے کے بعد بھی ساتھ رہوں گا، یہ دوست اُس کا عمل ہے۔ ف : حدیث شریف میں حضورِ اکرم ۖ نے انسان کے مال و اعمال کی مثال تین دوستوں سے دی ہے جن میں سے ایک تو صرف زندگی تک ساتھ رہنے کا کہتا ہے، دُوسرا مرنے کے بعد قبر تک جانے کی بات کرتاہے اور تیسرا دُنیا اور آخرت دونوں میں ساتھ رہنے کی بات کرتا ہے۔ پہلا مال ہے، دُوسرا اَولاد ہے اور تیسرا عمل ہے۔ اَب انسان کو خود غور کرلینا چاہیے کہ اِن میں سے کونسا دوست سچا اور وفادار ہے اور کس کی دوستی دُنیا و آخرت میں فائدہ مند ہے؟ جو شخص بھی غور کرے گا وہ ضرور اِس نتیجہ پر پہنچے گا کہ ایمان و عمل صالح سے بہتر دوست کوئی نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اِنسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کو ایمان اورعمل ِصالح سے آراستہ کرے تاکہ اُس کی دُنیاو آخرت دونوں سنور جائیں۔