ماہنامہ انوار مدینہ لاہور جولائی 2003 |
اكستان |
|
نماز میں فرائض : نماز میں چھ چیزیں فرض ہیں : (١) نیت باندھتے وقت تکبیر تحریمہ کہنا : مسئلہ : امام ابو حنیفہ رحمة اللہ علیہ کے نزدیک وہ کلمات جن سے اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہوتی ہو مثلاً اللّٰہ اعظم یا الرحمن اکبر اگر یہ تحریمہ میں کہے جائیں تو تحریمہ کافرض ادا ہو جا ئے گالیکن اللّٰہ اکبر کے کلمات کے ساتھ تحریمہ ادا کرنا واجب ہے۔ مسئلہ : تحریمہ کے لیے قیام شرط ہے خواہ وہ حقیقی ہو یا حکمی ہو (جیسا کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے میں ہوتا ہے) بعض ناواقف مسجد میں اگر امام کو رکوع میں پاتے ہیں تو جلدی کے خیال سے آتے ہی جھک جاتے ہیں او راسی حالت میں تحریمہ کہتے ہیں ان کی نماز نہیں ہوتی اس لیے کہ تکبیر تحریمہ نماز کی صحت کی شرط ہے اور تکبیر تحریمہ کے لیے قیام شرط ہے۔ جب قیام نہ کیا تحریمہ صحیح نہ ہوئی اور جب وہ صحیح نہ ہوئی تو نماز کیسے صحیح ہو سکتی ہے۔ (٢) تحریمہ کے بعد قیام یعنی کھڑا ہونا : مسئلہ : کھڑے ہو کر نماز پڑھنا فرض نمازوں میں فرض ہے ۔جو نمازیں واجب ہیں مثلاً وتر او ر عیدین کی نمازیں ان میں بھی قیام فرض ہے اور اسی طرح فجر کی سنتوں او ر نذر کے نفلوں میں بھی قیام فرض ہے۔ مسئلہ : بغیر عذر ایک پائو ں پر کھڑا ہونا مکروہ ہے لیکن نماز ہوجاتی ہے اور اگر عذر ہوتو مکروہ نہیں۔ (٣) قرأت یعنی قرآن مجید میں سے کوئی سورت یا آیت پڑھنا : مسئلہ : فرض نمازوں کی دو رکعتوں میں اور وتر ،سنت اور نفل کی تمام رکعتوں میں قرأت فرض ہے۔ مسئلہ : امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ علیہ کے نزدیک ایک آیت کے پڑھنے سے اگرچہ چھوٹی ہو قرأت کا فرض ادا ہوجاتا ہے ۔ایک چھوٹی آیت سے مراد یہ ہے کہ جس میں دو یادو سے زیادہ لفظ ہوں جیسے ثم قتل کیف قدر اور ثم نظر۔امام ابو یوسف رحمہ اللہ علیہ اور امام محمد رحمة اللہ علیہ کے نزدیک تین چھوٹی آیتیں یا ان کے برابر ایک بڑی آیت پڑھنا فرض ہے۔ مسئلہ : قرآن پاک کی قرأت اس نازل شدہ عربی کی بجائے اس کا کسی اور زبان میں ترجمہ پڑھے تو یہ جائز نہیں ۔ فقط ترجمہ پڑھنے سے نماز نہ ہوگی۔ مسئلہ : مقتدی امام کے پیچھے کسی نماز میں قرأت نہ کرے نہ سورہ فاتحہ پڑھے نہ دوسری سورت پڑھے نہ آہستہ