ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
کرنے میں بھی خفت و ذلت محسوس ہوتی ہے۔ اگر چہ ان میں سے بعض طلبا ء ان بیماریوںسے محفوظ رہتے ہیں مگر بہت کم ۔ ادھر دینی تعلیم میں پورا زور اس بات پر دیا جاتا ہے کہ ظاہر اً وباطناً ہر اعتبار سے طلبا ء میں جمال و کمال پید اہو ، اخلاص وللہیت ،عاجزی و انکساری جیسی صفات محمودیہ پیدا ہو جائیں۔ایسے لباس پہننے کا حکم ہے جس سے عبدیت اور انکساری کا اظہار ہو۔ سر کے بال آگے پیچھے دائیں بائیں ہر طرف سے یکساں ہونے چاہئیں ۔اس میں نقش ونگار اور فیشن بازی بالکل نہ ہو ۔ مکمل ڈاڑھی کا رکھنا واجب قرار دیا گیا ۔ٹخنے سے نیچے پاجامہ حرام بتایا گیا ۔راستہ میں کھانا پینا اور سرِراہ بے پردگی کے عالم میں پیشاب کرنا فسق قرار دیا گیا ۔یہ اور اس طرح کی بے اصولیوں سے عملی طور سے دُور رکھنے کی بھر پور کوشش برابر جاری رہتی ہے۔ اگر ہم علوم دینیہ کے ساتھ عصری علوم بھی شامل کر لیں تو لازمی طور پر دونوں کے آثار و نتائج بھی نقد در نقد مرتب ہونے لگیں گے ایسے میں یہ فیصلہ کرنابڑا مشکل ہے کہ یہ طالب علم مولوی حافظ قاری اور مفتی بنے گا یا مسٹرجینٹل مین ۔عموماً یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ ایسے متضاد ماحول میں پروان چڑھنے والے طلبہ پر مسٹر یت کارنگ غالب رہتا ہے اور مولویت کا رنگ و روغن یا تو بالکل ہی اُتر جاتا ہے یا کافی حد تک پھیکا پڑ جاتا ہے۔ یہ تو رہے وہ نقصانات اور منفی نتائج جن کے باعث عصری اور دینی علوم ہم آہنگ نہیں ہو پا رہے ہیں اور یہ وہ مجبوریاں ہیں جو دینی اور علوم کے درمیان خلیج کے مانند حائل ہیں۔ ایک نظر اس پر بھی ڈالیے کہ آخر عصری علوم کے پیچھے وہ کون سی ایسی موہوم تمنائیں اور دل میں روز اول سے بسنے والی وہ کیسی آرزوئیں ہیں جن کی پل پل کی کروٹیں ارباب مدارس کو اس طرح کا مشورہ دینے اور ملت اسلامیہ پر آنسو بہانے پر مجبور کرتی ہیں ۔اور اس تعلیم کے پس منظر میں وہ کیا کیا ترقیات ہیں جن کا خواب شرمندہ تعبیر ہونے کے لیے ابنائے زمانہ اور عصری علوم کے مستانوں کی رات نیند اور دن کا چین و سکون غارت کیے ہوئے ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ مسلم طلباء کثیر رقم خرچ کرکے عصری علوم کا سر ٹیفکیٹ حاصل کر لیتے ہیں او ر ملازمت کی جستجو و تلاش میںزبردست جدوجہد کرنے پر بمشکل تما م کہیں کرسی پر بیٹھنے کی جگہ ہاتھ آتی ہے ۔ ملازمت مل جانے پر بھی عصبیت اور نفرت کی مسموم فضا میںگُھٹ گُھٹ کر دن گزارنے پڑتے ہیں او ر قدم قدم پر مخالفین کے معاندانہ رویہ سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔حتی کہ بسا اوقات اپنی ملازمت بچانی مشکل پڑجاتی ہے ۔بالفاظ دیگر خودعصری علوم کے مستانوں کے دل میں ہماری عصری تعلیم کی کوئی قدروقیمت نہیں رہتی ا س کی جہاں بہت ساری وجوہات ہیں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم مسلمان ہیں۔ ہمیں اس طرح کے مصائب اس صورت میں جھیلنے پڑتے ہیں جبکہ مسلم طلباء عصری علوم کے ارادوں میں باضابطہ داخلہ لے کرکورس پورا کیے ہوتے ہیں اور ان مشہورو معروف اداروں کا سرٹیفیکٹ پاس میں موجود ہوتاہے ۔او ر اس