ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
درس حدیث ''فضائلِ اہلِ بیت'' تخریج و تزئین : مولانا سیّد محمود میاںصاحب کیسٹ نمبر ٣٩/ سائیڈ بی ٨٤ـ٨۔٢٤ عَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنََّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ۖ قَالَ لِعَلیٍّ وَفَاطِمَةَ وَالْحَسَنَ وَالْحُسَیْنَ اَنَا حَرْبلِمَنْ حَارَبَھُمْ وَسِلْم لِمَنْ سَالَمَھُمْ (رواہ الترمذی بحوالہ مشکٰوة ص٥٧٠) الحمد للہ رب العلمین والصلٰوة والسلام علی خیر خلقہ سیّدنا و مولانا محمد والہ واصحابہ اجمعین امابعد ! حضرت زید ابن ارقم رضی اللہ عنہ جوایک صحابی ہیںوہ فرماتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ۖ نے حضرت علی ، حضرت فاطمہ ، حضرت حسن ، حضرت حُسین ان سب کے بارے میں فرمایا انا حرب لمن حاربھم وسلم لمن سالم دونوں طرح ہے جو ان سے لڑے اُس کی مجھ سے لڑائی ہے اور جوان سے مصالحت رکھے اس سے میری مصالحت ہے۔ فضیلت حضرت علی بزبانِ حضرت عائشہ : ایک تابعی ہیں جُمَیّعْ بِنْ عُمَیْر وہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی پھوپھی کے ساتھ حضرت عائشہ کے پا س گیا میں نے دریافت کیا ای الناس کان احب الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلمکون جناب رسول اللہ ۖ کو سب سے زیادہ محبوب تھا تو حضرت ِ عائشہ نے فرمایا کہ ''فاطمہ ''میں نے دریافت کیا کہ مردوں میں کون آدمی بہت محبوب تھا تو انھوں نے جواب دیا کہ ان کے شوہر یعنی ''حضرت علی رضی اللہ عنہ''۔ حضرات صحابہ کی جانب سے اہل باطل کا رد : اصل میں حضرت علی کے خلاف ایک گروہ پیدا ہو گیا تھا اُس گروہ کے رد کے لیے سب صحابہ کرام