ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
دینی مدارس میں عصری تعلیم مولانا صدرالدین صاحب الاعظمی القاسمی مدرسہ شاہی مراد آباد انڈیا ٭ ایک مرتبہ لکھنؤ کا سفر درپیش تھا، مراد آباد اسٹیشن پر ٹرین کے انتظار میں ایک گھنٹہ بیٹھنا پڑا ۔برابر میں ایک پولیس مین بھی آ کر بیٹھ کر گئے ۔مسلمان تھے ،نوجوان تھے ،سنجیدہ تھے۔ دوران ِگفتگو انھوں نے مدارس کے متعلق سے یہ پیش کش کی کہ دینی مدارس میں عصری تعلیم بھی ضرور ہونی چاہیے تاکہ دینی تعلیم یا فتہ مسلمان نوجوان طلبہ اقتصادیات میں خود کفیل ہو سکیں اور دنیاوی ترقیات میں اہل زمانہ کے شانہ بہ شانہ ہو کر سوسائٹی میں برابر کا مقام حاصل کر یں ۔ یہ اوراس طرح کی باتیں جدید تعلیم یافتہ طبقہ کی طرف سے پورے شد ومد اور ردوقدح کے ساتھ کہی جاتی ہیں اور اُمّت مسلمہ کے ساتھ ہمدردی کے عنوان سے میڈیا میں بھی مزے لے لے کرخوب اُچھالی جاتی ہیں۔ بات تو بظاہر بڑی ہمدردی اور اپنائیت کی حامل ہے لیکن اس کی دبیز تہوں میں علوم دینیہ سے بغض، عداوت اور علماء اسلام سے نفرت وتجانب کی سلگتی ہوئی چنگاری سے اُٹھتا ہوا دھواں اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ ان جیسی باتوں کا مقصد اُمّت مسلمہ کو قرآن و حدیث اور فقہ و تصوف کے علوم آبدار سے کلیةً محروم کرکے مغربیت اور اس کی فکر کی چھاپ ڈالنی ہے ۔بالفاظ دیگر یہ ساری باتیں حُبِ علی میں نہیں،بغض معاویہ میں کہی جارہی ہیں ۔ بہت اچھی سوچ ہے کہ ہم مسلمانوں میں ڈاکٹر ہوں ،سائنس داں ہوں ،پروفیسر ہوں ، تاجرہوں ،زمیندار ہوں کارخانہ دار ہوں، مینو فیکچر ہوں ، یعنی ضرورت کی ساری چیزیں ہماری اپنی ہو ں اور ہم کسی کے دست نگر نہ ہوں ،ہاں ہم سب کچھ بنیں لیکن اپنے رہتے ہوئے ۔اگر غیروں کے بن کر صدر جمہور یہ بھی بن گئے تو کچھ نہ بنے ۔ معاش حاصل کرنے پر کسی کوکوئی اعتراض نہیں۔ قرآن واحادیث میں کسب معاش پر بہت زور دیا گیا ہے اور کسبِ حلال کے فضائل کثرت سے بیان کئے گئے ہیں۔ مثلًا مالی او ر افرادی طاقت مہتم بالشان ہونے کی وجہ سے قرآن نے ان کو دنیوی زینت سے تعبیر کیا ہے ۔المال والبنون زینة الحیا ة الدنیا (کہف :٤٦)مال اور اولاد دنیاوی زندگی کی زنیت ہیں ۔