ماہنامہ انوار مدینہ لاہور فروری 2003 |
اكستان |
|
اورایک حدیث شریف میں ہے حضور ۖ سے ایک صحابی نے پوچھا کہ میرے مال کا سب سے اچھا مصرف کیا ہے ؟(یعنی مال کہا ں خرچ کرو ں ) حضور ۖ نے فرمایا تمہاری بیٹی جو تم پر لوٹا دی جائے خواہ اس وجہ سے کہ بیوہ ہو گئی اس کا شوہر مر گیا ،یا اس وجہ سے کہ اس کے شوہر نے اس کوچھوڑ دیا یا طلاق دے دی ۔اب ایسے حالات میں ماں،با پ کی بھی نگاہیںپھر جاتی ہیں ۔باپ اپنی بیٹی کو بھول جاتا ہے ۔ جھانسی میں ایک مرتبہ میر ا جاناہوا ایک صاحب کے یہاںصبح کے وقت ٹھہرنا ہوا تھا، ایک لڑکا صاف ستھرے اچھے کپڑے پہنے ہوئے آیا ا س کو گودمیں بٹھالیا ، مٹھائی وغیرہ کوئی چیز کھانے کو دی ۔تھوڑی دیر میں ایک اور بچہ پرانے گندے کپڑے پہنے ہوئے خستہ حالت میں آیااس کو دیکھ کر کہا بس آگئے ،لگ گئی خوشبو ،کتوں کی طرح بھاگے چلے آئے،دھتکار کر بھگایا ،اور مجھ سے فرماتے ہیں کہ مولانا یہ میرا نواسہ ہے۔ مجھ سے تو اپنا خرچ پورا نہیں ہوتا ان کا کہا ںسے پورا کروں ۔لڑکی ہے میرے سر پڑ گئی مجبورہوں،مجھے بہت ناگوار ہو ا میں ناراض ہو کر وہاں سے چلا آیاکہ ایسے شخص کے یہاں نہیں ٹھہر ناچاہیے ۔باپ بھی بیچاری لڑکی کا نہ ہو گاتو دنیا میں کون اس کاہو گا۔ شادی میں تاخیر نہ کرئیے : ایک صاحب نے آکر اپنے لڑکے کے متعلق حضرت سے کچھ مشورے لیے اور ان کا لڑکا چند سال قبل مدرسہ میں زیرِ تعلیم بھی تھا اب کسی مدرسہ میں پڑھانے کی بات چل رہی تھی ان صاحب نے عرض کیا کہ حضرت کہیں سلسلہ لگا دیجئے حضرت نے فرمایا وہ پہلے اپنی شکل تو درست کریں ڈاڑھی تو وہ کٹاتے ہیں لوگ ان کے پیچھے نماز پڑھنے سے بھی اعتراض کرتے ہیں(کیونکہ ایسے شخص کی امامت مکروہ تحریمی ہے تمام مقتدیوںکی نماز خراب کرتا ہے)۔ان صاحب نے رشتہ کے متعلق بھی مشورہ کیا۔ حضر ت نے فرمایا رشتہ جلدی کر دیجیے اس میں تاخیر نہ کیجیے۔ انہوں نے عرض کیا کہیں سلسلہ سے لگ جائیںکچھ انتظام ہو جائے اس کے بعد رشتہ مناسب رہے گا ۔حضرت نے فرمایا اس کا انتظار نہ کیجیے اللہ تعالیٰ سب انتظام فرما دے گا آپ پہلے سے اتنی فکر کر رہے ہیں۔ ایک صحابی حضور ۖ کی خدمت میں حاضرہوئے اور فقر کی شکایت کی آپ نے فرمایا شادی کرلو،خود قرآن میں ہے ان یکونوا فقراء الا یة ۔اگر فقر ہے تو شادی کی برکت سے اللہ غنانصیب فرمادے گا اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ مال اور جہیز خوب ملے گا بلکہ ذمہ داری کا احساس ہوجاتا ہے آدمی کچھ کرنے لگتا ہے اور اللہ برکت دیتا ہے ۔ رزق کے سلسلہ میںزیادہ پریشان نہ ہونا چاہیے ،جو آتاہے مقد ر کا کھاتا ہے ۔پھر ایک بہو کو دو روٹی آپ نہیں کھلا سکتے؟ ان صاحب نے پھر پڑھانے کی بابت مشورہ کیاحضرت نے فرمایا سوچ کر بتلائوں گا مقامی طورپر تو مناسب